غیر ملکی تبلیغی جماعتیوں کی عرضی پر سماعت 10 جولائی تک ملتوی

سپریم کورٹ نے کہا کہ انہیں اپنے ملک بھیجنے کے معاملے میں وہ مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کے معاملے پر سماعت کرے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تبلیغی جماعت کے پروگرام میں حصہ لینے والے 34غیر ملکی جماعتیوں کی عرضیوں پر سماعت 10 جولائی تک کے لئے ملتوی کردی اور کہا کہ انہیں اپنے ملک بھیجنے کے معاملے میں وہ مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کے معاملے پر سماعت کرے گا۔

اس بیچ مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ غیرملکی جماعتیوں کی ان کے وطن کی واپسی تب تک نہیں ہوسکے گی جب تک ان کے خلاف ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں درج فوجداری مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوجاتی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ کو بتایا کہ ویزا رد کرنے کے سلسلے میں ہر غیرملکی جماعتی کے معاملے میں حکومت کے ذریعہ الگ الگ حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ پھر تو ہر متاثر جماعتیوں کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ کورونا کے معاملے پر مرکزی حکومت کی رہنما خطوط ، ریاستی حکومت اور پولس کے احکامات کی خلاف ورزی کے معاملے میں ہزاروں جماعتیوں کے خلاف مختلف ریاستوں میں فوجداری کے معاملے درج کیے گئے تھے جن کی سماعت عدالت میں زیرالتوا ہے۔ مرکزی حکومت نے ہزاروں جماعتیوں کو بلیک لسٹ کرکے ان کے ویزے منسوخ کر دیئے تھے۔ جن میں سے 34 غیرملکی جماعتیوں نے حکومت کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیا ں دائر کی ہیں۔

next