مودی حکومت کا دعویٰ کھوکھلا! مزدوروں کو 2 مہینے میں ملا صرف 13 فیصد انَاج

خود کفیل ہندوستان پیکیج کے تحت بغیر راشن کارڈ والے 8 کروڑ مہاجر مزدوروں کو مئی اور جون مہینے میں 5-5 کلو اناج دینے کو کہا گیا تھا، لیکن اب تک صرف 2.13 کروڑ مزدوروں کو ہی اس کا فائدہ مل سکا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں کورونا بحران کے درمیان سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ان مزدوروں کو کرنا پڑ رہا ہے جن کی روزی روٹی چھن گئی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مزدور مشکل میں ہیں، ان کے لیے مرکزی حکومت نے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا اور جو اٹھایا، اس کی حقیقت بھی ڈھاک کے تین پات بن کر رہ گئی ہے۔ بدھ کو پی ایم مودی نے ملک کو خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے 80 کروڑ غریبوں کو نومبر تک مفت میں راشم تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے ان کی حکومت نے جو مفت راشن تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا، کیا اس ہدف کو پورا کر لیا گیا ہے؟ تو اس کا جواب آپ کو 'نہ' میں ہی ملے گا۔ مزدوروں اور غریبوں کو گزشتہ دو مہینے میں جو راشن تقسیم کرنے کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس کے بارے میں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

وزارت برائے خوردنی اشیاء اور عوامی تقسیم کے اعداد و شمار کے مطابق ریاستی حکومتوں کے ذریعہ گزشتہ دو مہینوں میں مہاجر مزدوروں کو ملنے والے اناج کا 13 فیصد اناج ہی خرچ کیا گیا ہے۔ یعنی مزدوروں میں ان دو مہینوں میں صرف 13 فیصد ہی راشن تقسیم کیا جا سکا ہے۔ وزارت نے اپنے ڈاٹا میں بتایا ہے کہ خود کفیل ہندوستان پیکیج کے تحت بغیر راشن کارڈ والے 8 کروڑ مہاجر مزدوروں کو مئی اور جون مہینے میں 5-5 کلو اناج دینے کو کہا گیا تھا۔ لیکن اب تک صرف 2.13 کروڑ مزدوروں کو ہی اس کا فائدہ مل سکا ہے۔ مئی مہینے میں 1.21 کروڑ لوگ اور جون میں 92.44 لاکھ لوگوں کو اس منصوبہ کا فائدہ مل پایا ہے۔

وزارت کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق سبھی 36 ریاستوں اور مرکز کے ماتحت علاقوں نے اب تک 6.38 لاکھ میٹرک ٹن اناج ہی اٹھایا ہے، جو کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ الاٹ 8 لاکھ میٹرک ٹن اناج کا 80 فیصد ہے۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان تقسیم محض 1.07 لاکھ میٹرک ٹن ہی ہوا ہے، جو مرکزی حکومت کے ذریعہ الاٹ کل اناج کا محض 13 فیصد ہے۔

وزارت کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق کئی ریاستوں نے 2 مہینے کے لیے طے کوٹہ کے تحت پورا اناج تو اٹھا لیا، لیکن اب تک تقسیم نہیں کیا ہے۔ تقریباً 26 ریاستوں نے مرکز سے اپنے کوٹے کا 100 فیصد اناج لے لیا ہے، لیکن ان میں سے کسی ریاست نے اب تک سبھی مہاجر مزدوروں کو گزشتہ دو مہینے کے لیے الاٹ اناج نہیں دیا ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق یو پی کو مرکزی حکومت کی طرف سے 142033 میٹرک ٹن اناج الاٹ کیا گیا، جس میں یو پی نے 140637 میٹرک ٹن اٹھا لیا ہے، لیکن مئی مہینے میں 4.39 لاکھ ضرورت مندوں اور جون مہینے میں 2.25 لاکھ لوگوں تک صرف 3324 میٹرک ٹن اناج پہنچایا۔ مطلب یہ کہ یو پی میں اب تک صرف 2.03 فیصد اناج ہی تقسیم کیا جا سکا ہے۔

اگر بہار کی بات کریں تو حکومت نے اپنے کوٹے کا 100 فیصد اناج یعنی 86450 میٹرک ٹن اٹھا لیا ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ جس بہار میں سب سے زیادہ مزدور ہونے کی بات کہی گئی، وہاں اب تک صرف 3.68 لاکھ غریبوں تک 1.842 میٹرک ٹن اناج ہی خرچ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے ذریعہ صرف 2.13 فیصد اناج ہی تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار مئی مہینے کے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جون مہینے میں کسی کو اناج تقسیم نہیں کیا گیا۔

Published: 2 Jul 2020, 3:11 PM
next