اتر پردیش: 15 غیر ملکی تبلیغی جماعت اراکین کی ضمانت عرضی مسترد

جونپور ضلع عدالت نے بنگلہ دیش اور نیپال سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت اراکین کے مقدمے کی سماعت کے دوران غیر حاضر رہنے کے امکان کی بنا پر ضمانت کی عرضی کو مسترد کر دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جونپور: اترپردیش کے ضلع جونپور کے علاقے سرائے خواجہ علاقے کے لال دروازہ کے قریب گرفتار کیے گئے 14 بنگلہ دیشی اور ایک نیپالی جماعتیوں کی ضمانت کی عرضی مسترد کردی گئی ہے۔ پراسیکیوٹر (استغاثہ) کے مطابق 31 مارچ کو پولیس نے سرائے خواجہ تھانہ حلقے کے لال دروازہ مسجد کے سامنے منیر احمد کے دو کمروں کے گھر سے لاک ڈاؤن کے دوران 14 بنگلہ دیشیوں سمیت 16 ملزموں کو گرفتار کیا تھا۔ ہر کسی نے خود کو جماعت سے منسلک بتایا تھا۔

ملزموں پر فارنرس ایکٹ، پاسپورٹ ایکٹ اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ انکوائری میں ملزموں کے خلاف دفعہ 307، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور وبائی ایکٹ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیشی ملزم محمد اسماعیل اور جھارکھنڈ کے یاسین انصاری کو کورونا پوزیٹو پایا گیا۔ کوتوالی پولیس نے تسلیم خان اور دیگر ملزموں کو نیپال کے روٹہٹ سے 3 اپریل 2020 کو چاند میڈیکل تیراہے کے قریب گرفتار کیا۔ ملزم دہلی کے تبلیغی مرکز سے لوٹے تھے۔

پولیس کے مطابق، ملزم کا مقصد دوسرے افراد میں کورونا وائرس پھیلانا اور ان کی جان کو خطرہ پہنچانا تھا۔ ملزم پرساد انٹرنیشنل اسکول میں عارضی جیل میں بند ہیں۔ ملزموں کے وکلا نے دلائل دیں کہ ملزم سنی مسلمان ہیں اور صوفی بزرگوں کی درگاہوں کی زیارت کے لیے ہندوستان آئے تھے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں پھنس گئے۔ کسی مرکز یا مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں بتانے کا کوئی مقصد نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ ملزم غیر ملکی شہری ہونے کے باوجود اس کے قیام کے بارے میں مقامی انتظامیہ کو کوئی معلومات نہیں دی گئی۔ ضمانت ملنے پر وہ بیرون ملک چلا جائے گا اور ہندوستان واپس آنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ ان مقدمات میں شامل دیگر ملزمان جن کی ضمانت منظور کی گئی ہے وہ ہندوستان سے ہیں لہذا ان کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ضلع عدالت نے منگل کو بنگلہ دیشیوں اور نیپالیوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران غیر حاضر رہنے کے امکان کی بنا پر ضمانت کی عرضی مسترد کر دی۔

next