ہریانہ: خطرے میں کھٹر حکومت! بی جے پی-جے جے پی کے متعدد ارکان اسمبلی کانگریس کے رابطہ میں

ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ہریانہ کانگریس کی صدر کماری شیلجا نے کہا کہ بی جے پی، جن نایئک جنتا پارٹی (جے جے پی) اور کئی آزاد ارکان اسمبلی کانگریس کے رابطہ میں ہیں۔

کانگریس کی سینئر لیڈر شیلجا کماری، تصویر یو این آٗئی
کانگریس کی سینئر لیڈر شیلجا کماری، تصویر یو این آٗئی
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: بی جے پی حکومت کے خلاف کسانوں کی چل رہی تحریک کے دوران ہریانہ میں بڑی سیاسی ہلچل ہو رہی ہے اور کھٹر حکومت پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہے۔ ہریانہ کانگریس کی صدر کماری شیلجا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہریانہ میں کانگریس پارٹی حکومت سازی کی کوشش کرسکتی ہے۔

ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ہریانہ کانگریس کی صدر کماری شیلجا نے کہا کہ بی جے پی، جن نایئک جنتا پارٹی (جے جے پی) اور کئی آزاد ارکان اسمبلی کانگریس کے رابطہ میں ہیں۔ شیلجا نے کہا کہ کھٹر حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور کانگریس ریاست میں سیاسی خلا نہیں چھوڑے گی۔

کماری شیلجا نے کہا، ’’ہریانہ حکومت اب عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ حال ہی میں خود وزیر اعلیٰ کھٹر کے آبائی ضلع میں ان کی زبردست مخالفت ہوئی۔ وہ وقت کو نہیں پہچانتے، جو ہو رہا ہے وہ اس حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ زراعت پر مبنی اس ریاست کے لوگ اب بی جے پی سے دور ہو چکے ہیں اور اس بات کو برسر اقتدار جماعت اور ان کی حلیف جماعت جانتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارا ان لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ آج پورا صوبہ بی جے پی کی پالیسیوں اور ان کے طریقہ کار سے ناراض ہیں۔‘‘ کماری شیلجا نے اس سے قبل ٹوئٹ کے ذریعے بھی بی جے پی-جے جے پی حکومت پر نشانہ لگایا۔ انہوں نے لکھا، ’’نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام بی جے پی-جے جے پی حکومت کے پاس نہ تو کوئی پولیسی ہے اور نہ ہی نیت۔ 34 ہزار اساتذہ کی کمی کے باوجود کوئی بھرتی نہیں۔ کیا حکومت بغیر اساتذہ ریاست کے طلبا کا مستقبل سنوارے گی؟’’

خیال رہے کہ ہریانہ میں بی جے پی حکومت کو فی الحال جے جے پی اور کئی آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل ہے۔ ہریانہ میں اسمبلی کی کل 90 سیٹیں ہیں اور اکثریت کا ہدف 46 ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے یہاں 40 سیٹیں جیتی تھیں۔ جبکہ دشینت چوٹالہ کی جے جے پی نے 10 سیٹیں اور آزاد امیداروں کے کھاتے میں 7 سیٹیں گئی تھیں۔ کانگریس کو ان انتخابات میں 31 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں اور دیگر کے کھاتے میں دو سیٹیں گئی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Jan 2021, 1:11 PM
next