’آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی‘، کھٹر حکومت بھی بے شرمی پر آمادہ

ہریانہ کی کھٹر حکومت نے کہا ہے کہ ریاست میں کووڈ سے متاثر ایک بھی مریض کی آکسیجن کی کمی سے موت نہیں ہوئی ہے، حالانکہ خود وزیر اعلیٰ نے اس بات کو مانا کہ ریاست میں آکسیجن کی کمی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

دھیریندر اوستھی

ہریانہ اسمبلی کے مانسون اجلاس کا آغاز جمعہ کو امید کے مطابق ہی ہنگامہ خیز ہوا۔ حکومت ہر اس مسئلہ پر جواب دینے سے بھاگی جس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ کورونا سے لے کر مہنگائی اور کسانوں کے مسئلہ پر اپوزیشن کی جانب سے دی گئی توجہ دلاؤ نوٹس اسمبلی اسپیکر نے رد کر دیا۔ لیکن ایوان میں کھٹر حکومت کے ایک بے شرم اور بے حسی پر مبنی بیان نے سبھی کو حیران کر دیا۔ حکومت نے کہا کہ ریاست میں کووڈ سے متاثر ایک بھی مریض کی موت آکسیجن کی کمی سے نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ خود وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاست میں آکسیجن کی کمی تھی۔

ہریانہ حکومت اس پالیسی کے ساتھ ہی ایوان میں پہنچی تھی کہ مشکل میں ڈالنے والے کسی بھی مسئلہ کا جواب اسے نہیں دینا ہے۔ اہم ایشوز پر کانگریس اراکین اسمبلی کے تقریباً ڈھائی درجن توجہ دلاؤ نوٹس کو کسی فوری سبجیکٹ سے جڑا نہ ہونے کی دلیل دیتے ہوئے اسمبلی اسپیکر نے نامنظور کر دیا۔ ان توجہ دلاؤ نوٹس میں دہلی کی سرحدوں پر تحریک چلا رہے کسانوں کا مسئلہ ہونے کے ساتھ ہی پیپر لیک، پٹرول، ڈیزل اور گیس کی بڑھتی قیمت اور کورونا سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی جیسے موضوعات شامل تھے۔


قابل غور بات یہ ہے کہ اسپیکر کے دلائل بھی حیران کرنے والے تھے۔ اسپیکر نے کہا کہ مہنگائی میں ہم ہر اجلاس میں بحث کرتے ہیں، لہٰذا اس میں ایسا کچھ بھی نیا نہیں ہے کہ بحث کرنا لازمی ہو۔ کسانوں کے مسئلہ پر گزشتہ اجلاس میں ہم بحث کر چکے ہیں، لہٰذا اس پر بحث کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن سب سے زیادہ حیران کیا گوہانا سے کانگریس رکن اسمبلی جگبیر سنگھ مل کی جانب سے کورونا دور میں آکسیجن کی کمی سے ہوئی اموات پر پوچھے گئے سوال پر حکومت نے اپنا جواب دیا۔ حکومت نے ایوان کو بتایا کہ آکسیجن کی کمی سے ریاست میں ایک بھی موت نہیں ہوئی ہے۔ اپوزیشن نے جب اس جواب پر سوال کھڑے کیے تو اس پر وضاحت دینے بھی خود وزیر اعلیٰ کھڑے ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر ہم سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے پاس آکسیجن کی کمی تھی۔ جتنی آکسیجن کی ہمیں ضرورت تھی اتنی ہمیں نہیں ملی۔ لیکن کسی بھی اسپتال سے آکسیجن کی کمی سے موت کا کوئی ڈاٹا ہمارے پاس نہیں آیا ہے۔ حد تو تب ہو گئی جب الٹا اپوزیشن پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’اپوزیشن کی تو کوئی ذمہ داری ہوتی نہیں ہے، سوائے شور مچانے کے۔ اپوزیشن ہمارے جواب سے مطمئن ہوگا ایسی ہماری اس سے امید بھی نہیں ہے۔ تنقید کے علاوہ ہماری آپ سے کوئی اور امید نہیں ہے۔ ہم جو کر سکتے تھے ہم نے کیا۔‘‘

جب اپوزیشن نے کہا کہ یہ تو کوئی جواب نہیں ہے، تو وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سبھی جانکاریاں دستیاب نہیں ہیں۔ جب آ جائیں گی تو مطلع کیا جائے گا۔ اس پر اپوزیشن لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ یہ سنجیدہ موضوع ہے۔ ہماری کوششوں میں کہاں کمی رہ گئی۔ ہم نے اس سے کیا سبق حاصل کیا۔ کورونا سے آپ جو اموات بتا رہے ہو، پورا ملک اور بین الاقوامی میڈیا بتا رہا ہے کہ اس سے دس گنا تک زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ ہڈا نے سوال کیا کہ کیا حکومت نے اس کی جانچ کے لیے کوئی کمیٹی بنائی ہے۔ پورا ہریانہ جاننا چاہتا ہے کہ ریاست میں کتنے لوگوں کی کورونا سے موت ہوئی ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جانی چاہیے۔


اس پورے معاملے میں حکومت سے سوال پوچھنے والے جگبیر سنگھ ملک کا کہنا تھا کہ ہم اس جواب سے مطمئن نہیں ہیں۔ سونی پت میں ایک دن میں کووڈ پروٹوکول سے 29 لوگوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں اور حکومت کے ریکارڈ میں صرف تین درج ہیں۔ حکومت بتائے کہ آکسیجن کی کمی سے کتنی اموات ہوئی ہیں۔ جگبیر ملک نے مطالبہ کیا کہ کورونا سے مرنے والوں کے بچوں کو پنشن دی جائے۔ حکومت بتائے کہ ابھی تک کتنے لوگوں کو مدد دی گئی ہے، لیکن حیرانی ہے کہ حکومت کے پاس ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب نہیں تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔