موسلادھار بارش سے دہلی پانی پانی، کئی علاقوں میں آبی جماؤ، آرینج الرٹ جاری

دہلی کے کچھ علاقوں میں آبی جماؤ کے سبب آمد و رفت بند کرنے کا اعلان انتظامیہ کے ذریعہ کیا گیا ہے، منٹو برج اور آزاد مارکیٹ انڈر پاس بند کرنے کا اعلان بھی دہلی پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعہ کیا ہے۔

آبی جماؤ کا منظر
آبی جماؤ کا منظر
user

تنویر

دہلی-این سی آر میں جمعہ کی شام سے شروع ہوئی بارش کا سلسلہ لگاتار جاری ہے جس کی وجہ سے جگہ جگہ آبی جماؤ کا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ دیر کے لیے بارش رکی ضرور تھی، لیکن آج صبح میں بھی کبھی ہلکی اور کبھی تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارش کی وجہ سے جہاں دہلی کے باشندوں کو گرمی سے راحت ملی ہے، وہیں آمد و رفت میں کئی طرح کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ موسلادھار بارش کے بعد محکمہ موسمیات نے آج کے لیے آرینج الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔ گویا کہ ہفتہ کے روز پورے دن بارش ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جمعہ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری کم 32.8 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ ساتھ ہی اس نے بتایا کہ ہفتہ کو بھی تیز بارش کا امکان ہے برقرار ہے اور اس سے درجہ حرارت میں کمی ہوگی۔ اس موسلادھار بارش کی وجہ سے دہلی کے کئی علاقوں میں آبی جماؤ ہو گیا ہے اور انتظامیہ نے اس سلسلے میں بیان جاری کر لوگوں کو مطلع بھی کیا ہے تاکہ سفر کے دوران لوگوں کو آسانی پیدا ہو جائے۔


موصولہ اطلاعات کے مطابق کناٹ پلیس، منٹو برج، لاجپت نگر، جنگ پورہ، آزاد مارکیٹ، آئی ٹی او اور پرگتی میدان جیسے علاقوں میں آبی جماؤ کی وجہ سے آمد و رفت متاثر ہے۔ کچھ علاقوں میں آبی جماؤ اس قدر زیادہ ہے کہ آمد و رفت بند کرنے کا اعلان انتظامیہ کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ منٹو برج اور آزاد مارکیٹ انڈر پاس بند کرنے کا اعلان بھی دہلی پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعہ کیا ہے۔ آزاد مارکیٹ انڈر پاس میں 1.5 فیٹ آبی جماؤ کی بات کہی گئی ہے۔

دہلی سے ملحق اتر پردیش کے کئی علاقوں میں بھی بارش کی وجہ سے زبردست آبی جماؤ کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور اس سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کی گئی ہیں۔ خبروں کے مطابق غازی آباد اور نوئیڈا کے کئی علاقوں میں پانی بھرا ہوا ہے جس سے مسافروں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیچے پیش ہیں کچھ ویڈیوز جو دہلی-این سی آر میں آبی جماؤ کا نظارہ پیش کر رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔