ہریانہ: پانی پت میں دو فریقوں کے درمیان خونریز تصادم، ایک نوجوان کی موت، متعدد زخمی

پولیس نے بتایا کہ متوفی نوجوان کی شناخت سنیل (28) کے طور پر کی گئی ہے، اس کی موت چاقو کے حملے سے ہوئی، جبکہ کم از کم چھ زخمیوں کو ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

قتل، علامتی تصویر آئی اے این ایس
قتل، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

پانی پت: ہریانہ کے پانی پت ضلع کے آسن خورد گاؤں میں بدھ-جمعرات کی درمیانی شب دو فریقوں کے درمیان خونریز تصادم میں ایک نوجوان کی موت ہو گئی اور گاؤں کے سرپنچ بیر سنگھ سمیت کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے بتایا کہ متوفی نوجوان کی شناخت سنیل (28) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کی موت چاقو کے حملے سے ہوئی۔ جب کہ کم از کم چھ زخمیوں کو یہاں کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

خونی تصادم کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ دونوں فریقین کے درمیان لاٹھیوں اور چاقوؤں کا استعمال کیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو سنبھالا اور جاں بحق نوجوان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے گئی۔ متوفی کے لواحقین نے اس جھگڑے کے پیچھے پرانی دشمنی اور سرپنچی سیاست بتائی ہے۔ متوفی نوجوان گاؤں کے سرپنچ کا چچا زاد بھائی ہے۔


بیر سنگھ نے متلوڈا تھانے میں دی گئی شکایت میں کہا ہے کہ سنیل اور وہ گاؤں میں نہر کے پاس کام کر رہے تھے۔ اس دوران سنیل موٹر سائیکل پر جانے لگا تو راستے میں ٹریکٹر لے کر آتے دیپک اور موہت ملے۔ ٹریکٹر کے پیچھے ٹینکر لگا ہوا تھا جس میں کیمیکل والا پانی تھا۔ سنیل نے ان سے کہا کہ ان کے کھیتوں کے آس پاس ڈین میں یہ گنداپانی مت پھینکنا بس اتنے میں وہ دونوں اشتعال میں آگئے۔ موہت نے ٹریکٹر سے سنیل کو ٹکرماردی۔

شور سن کر اردگرد کے لوگ سدرشن اور شیش پال نے وہاں پہنچ کر صلح کرانے کی کوشش کی۔ اس دوران دیپک نے فون کرکے گاوں سے وکاس، سندیپ، اجئے، روہت، ونود کو بلالیا۔ ان کے پاس لاٹھی، چاقو، گنڈاسے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وکاس نے ہی چاقو سے سنیل پر حملہ کردیا اور بیچ بچاو میں سچن، شیش پال، سدرشن کو بھی زخم آئے۔ سنگین طورسے زخمی سنیل نے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ حملہ آور واردات کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے۔


متلوڈا تھانہ انچارج نے بتایا کہ متوفی نوجوان کے اہل خانہ کے بیانات کی بنیاد پر کم ازکم سات افراد کے خلاف قتل سمیت مختلف دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔