سمیر وانکھیڈے کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ پر بھی لکھا ہے ’مسلم‘، نواب ملک کا نیا انکشاف

نواب ملک نے کہا کہ این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ (ایس ایل سی) پر بھی مذہب کے خانہ میں ’مسلم‘ لکھا ہوا ہے۔

نواب ملک اور سمیر وانکھیڈے، تصویر آئی اے این ایس
نواب ملک اور سمیر وانکھیڈے، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پالیٹکل سپر اسنوپ بنام نارکوٹکس سپر سلیتھ کے درمیان چل رہی جنگ میں مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نے ایک بار پھر سمیر وانکھیڈے پر حملہ کیا ہے۔ جمعرات کو نواب ملک نے کہا کہ این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ (ایس ایل سی) سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ’مسلم‘ ہیں۔

اس سوال پر کہ این سی بی افسر نے ریزرویشن کلاس میں سنٹرل کی ملازمت حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر فرضی کاسٹ سرٹیفکیٹ کیسے پیش کیا، این سی پی کے قومی ترجمان نے وانکھیڈے کے مبینہ اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جب انھوں نے گھر بدلنے کی حالت میں ایک اسکول چھوڑ دیا اور دوسرے اسکول میں داخلہ لے لیا۔ پہلا سینٹ پال ہائی اسکول دادر کا ہے، جسے انھوں نے 27 جون 1986 کو درجہ 2 کے طالب علم کی شکل میں داخلہ کے ایک سال بعد (13 جون 1985)، سینٹ جوزف اسکول، وڈالا میں منتقلی کے لیے چھوڑ دیا تھا۔


دو ہاتھ سے لکھے سرٹیفکیٹ، جیسا کہ ان دنوں میں طریقہ تھا، یکساں تفصیل ظاہر کرتے ہیں، جس میں طالب علم کا نام سمیر داؤد وانکھیڈے، یوم پیدائش 14 دسمبر 1979 لفظوں میں لکھا ہے اور مذہب کے خانہ میں ’مسلم‘ لکھا گیا ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ ’’میں نے یہ اور دیگر تفصیلات عزت مآب بامبے ہائی کورٹ کو پہلے ہی جمع کر دی ہیں، جو آج یا بعد میں اپنا عبوری حکم پاس کریں گے۔ وانکھیڈے دھوکہ دہی میں ملوث رہے ہیں اور ’فرضی سرٹیفکیٹ‘ بنانے میں ماہر ہیں۔‘‘

وانکھیڈے فیملی نے ملک کو برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ایک کمپیوٹر سے تیار سرٹیفکیٹ پیش کیا، جس میں نام سمیر، والدہ کا نام زاہدہ بانو اور والد کا دھیان دیو کچروجی وانکھیڈے کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ ان دلائل کو خارج کرتے ہوئے ملک نے بتایا کہ بی ایم سی نے سبھی پرانے ہاتھ سے لکھے دستاویزوں کو اسکین کیا ہے اور دونوں اسکولوں کے ایس ایل سی ان الیکٹرانک ریکارڈ سے ہیں۔ ملک نے مزید کہا کہ ’’سمیر داؤد وانکھیڈے اس طرح کے فرضی سرٹیفکیٹ پیش کر رہے ہیں۔ میں نے سبھی دستاویز ہائی کورٹ، ممبئی اور مہاراشٹر پولیس سربراہان، اپوزیشن بی جے پی کو سونپ دیئے ہیں اور تفصیلی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔