دھونی سے ملنے 20 دنوں تک 1436 کلو میٹر پیدل چلا ’سُپر فین‘، پاؤں میں پڑ گئے چھالے

بدھ کی شب مہندر سنگھ دھونی نے اپنے شیدائی کو رانچی کے سملیا واقع فارم ہاؤس میں ٹھہرایا، اس کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں اور ایک بیٹ پر اپنا آٹوگراف دیا، گھر واپسی کے لیے فلائٹ ٹکٹ کا انتظام بھی کرایا۔

دھونی کا سُپر فین، تصویر آئی ے این ایس
دھونی کا سُپر فین، تصویر آئی ے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کرکٹر مہندر سنگھ دھونی کے ایک سُپر فین نے ثابت کر دیا کہ وہ ان سے ملاقات کے لیے کسی بھی تکلیف کو برداشت کر سکتا ہے۔ اس سُپر فین یعنی شیدائی کا نام ہے اجے گل، اور اس کی عمر ہے 18 سال۔ مہندر سنگھ دھونی سے ملاقات کے لیے اس نے 1436 کلو میٹر کی دوری پیدل طے کی۔ 20 دنوں کے سفر میں اس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔ بدھ کی دیر شام رانچی میں دھونی سے ان کے فارم ہاؤس میں ملاقات کے ساتھ اس کی مراد پوری ہو گئی۔ اجے نے دھونی کو ’آئی لو یو‘ بولا تو دھونی نے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔

اجے گِل نے کہا کہ یہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہے اور آج وہ خود کو سب سے بڑا خوش قسمت سمجھ رہا ہے۔ جن سے ملنے کے خواب وہ گزشتہ کئی سالوں سے دن رات دیکھا کرتا تھا، ان سے مل کر اس کی زندگی کامیاب ہو گئی ہے۔ بدھ کی رات مہندر سنگھ دھونی نے اپنے اس شیدائی کو رانچی کے سملیا واقع اپنے فارم ہاؤس میں ٹھہرایا۔ اس کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں، ایک بیٹ پر اسے اپنا آٹوگراف دیا اور اس کی گھر واپسی کے لیے فلائٹ ٹکٹ کا انتظام بھی کرایا۔


اجے ہریانہ کے جلان کھیڑا کا رہنے والا ہے اور یہ دوسری بار ہے جب وہ مہندر سنگھ دھونی سے ملنے کے لیے تقریباً ساڑھے چودہ سو کلومیٹر پیدل چل کر رانچی پہنچا تھا۔ اس سے پہلے وہ اسی سال 26 جولائی کو بھی رانچی پہنچا تھا، اس وقت دھونی رانچی میں نہیں تھے اور اجے کی ان سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی۔ وہ یہاں کئی دنوں تک سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھ پر رہتا رہا تھا بعد میں مقامی لوگوں نے اسے فلائٹ کے ذریعہ واپس ہریانہ بھیجا تھا۔

مہندر سنگھ دھونی کے لیے ایسی دیوانگی کیوں؟ اس سوال پر اجے کہتا ہے کہ وہ دھونی کا دیوانہ صرف اس لیے نہیں ہے کہ وہ ایک شاندار کرکٹر ہیں، بلکہ ٹی وی پر ان کی باتیں سن کر اور ان کے سلوک کے بارے میں جان کر وہ ان سے بے حد متاثر ہے۔ اجے نے کہا کہ کچھ دنوں پہلے دھونی ان کے خواب میں آئے تھے، تب اس نے پوچھا تھا کہ وہ اس سے کب ملیں گے؟ خواب میں ہی دھونی نے اس سے کہا تھا کہ اس بار ضرور ملاقات ہوگی۔


اس خواب کے بعد جب اس کی آنکھیں کھلیں تو وہ ایک بار پھر پیدل رانچی کے لیے نکل پڑا اور 20 دنوں تک لگاتار چلنے کے بعد یہاں آ پہنچا۔ اجے نے کہا کہ وہ بھی کرکٹ میں کیریر بنانا چاہتا ہے، لیکن اس نے کچھ سال پہلے عزم کیا تھا کہ جب تک دھونی سے ملاقات نہیں ہوگی، تب تک بیٹ نہیں اٹھائے گا۔ اب ان سے ملاقات ہو گئی ہے تو وہ واپس گھر جا کر کالج کی پڑھائی کرے گا اور ساتھ میں کرکٹ کھیلنا شروع کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔