بڑھتی آلودگی سے ہریانہ حکومت بھی پریشان، 14 اضلاع میں ’وَرک فروم ہوم‘، اسکول و کالج بند

ہریانہ حکومت بڑھتی آلودگی سے فکرمند ہے، حالات سے نمٹنے کے لیے 14 اضلاع میں 50 فیصد اسٹاف کے لیے ’وَرک فروم ہوم‘ 21 نومبر تک نافذ کرنے کو کہا گیا ہے، یہی حکم پرائیویٹ اداروں کے لیے بھی ہے۔

ماحولیاتی آلودگی، تصویر آئی اے این ایس
ماحولیاتی آلودگی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

دہلی-این سی آر، ہریانہ اور یو پی اس وقت ماحولیاتی آلودگی کی زد میں ہے۔ بڑھتی آلودگی کو روکنے کے لیے ہریانہ حکومت نے 14 اضلاع میں 50 فیصد اسٹاف کے لے وَرک فروم ہوم 21 نومبر تک نافذ کرنے کو کہا ہے۔ یہی حکم پرائیویٹ اداروں کو بھی نافذ کرانے ہوں گے۔

اس کے علاوہ اسکول و کالج اور تعلیمی اداروں کو آئندہ حکم تک بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ہریانہ حکومت نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی آلودگی پھیلاتے ہوئے پکڑا جائے گا، اس پر بھاری جرمانہ لگایا جائے گا۔ بڑھتی آلودگی کے سبب این سی آر میں آنے والے ہریانہ کے 14 اضلاع میں پرانی گاڑیوں کے چلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اب ڈیزل کی 10 سال اور پٹرول کی 15 سال پرانی گاڑیاں اب سڑک پر چلتی ملیں تو انہیں فوراً امپاؤنڈ کر دیا جائے گا۔


بدھ کو گروگرام پہنچے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا تھا کہ آلودگی کا مسئلہ سنگین ہے۔ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے ہم برداشت کر رہے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر عام لوگوں کی صحت پر سنگین اثر پڑ رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کے مطابق اسکول و کالج کے علاوہ دیگر تعلیمی ادارے اور کچھ صنعتی یونٹس کو بھی بند کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔