گیان واپی مسجد، عید گاہ معاملہ، سپریم کورٹ میں سماعت کل

سپریم کورٹ کل یہ فیصلہ کرے گی کہ سادھوؤں کی جنب سے داخل پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول کیا جائے یا نہیں، جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون پیش ہوں گے۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: گیان واپی مسجد، کاشی متھرا عید گاہ تنازعہ حل کرانے کے لئے سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل پٹیشن پر کل سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بنچ کے روبرو سماعت عمل میں آئے گی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کی گئی کاز لسٹ (سماعت کے لئے پیش ہونے والے مقدمات کی فہرست) کے مطابق اس معاملہ کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے، جسٹس سبھاش ریڈی اور جسٹس اے ایس بوپنا کریں گے۔

گیان واپی مسجد، کاشی متھرا عید گاہ معاملہ حل کرانے کے لئے ہندو پجاریوں کی تنظیم وشو بھدر پجاری پروہیت مہا سنگھ و دیگر نے پٹیشن داخل کر کے عبادت کے مقام کے قانونی یعنی کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ پجاریوں کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن کی مخالفت کرنے کے لئے جمعیۃ علماء ہند نے بھی مداخلت کار کی درخواست داخل کی ہے۔ جس میں جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر گلزار اعظمی قانونی امدادی کمیٹی کو مدعی بنایا گیا ہے۔ جس کا ڈائری نمبر 12395/2020 ہے۔

جمعیۃ علماء کی مداخلت کار کی درخواست کو بھی ہندو سادھوؤں کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن کے ساتھ سماعت کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ عدالت اس پر بھی فیصلہ کرسکتی ہے آیا جمعیۃ علماء کو اس معاملہ میں مداخلت کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ کل ہونے والی سماعت پر جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ یہ قانون 18 ستمبر 1991 کو پاس کیا گیا تھا جس کے مطابق 1947 میں ملک آزاد ہونے کے وقت مذہبی مقامات کی جو صورتحال تھی اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے، صرف بابری مسجد تنازعہ کو اس قانون سے باہر رکھا گیا تھا، کیونکہ یہ معاملہ پہلے سے ہی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت تھا۔ اس سے قبل ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن میں تحریر کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے تو عدالت ہندو سادھوؤں کی جانب سے داخل پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول ہی نہ کرے اور اسے خارج کردے کیونکہ اگر عدالت اسے سماعت کے لئے قبول کرلیتی ہے تو ہندوستان کے انصاف وامن پسند عوام بالخصوص مسلمانوں میں تشویش پیدا ہوجائے گی۔ کیونکہ بابری مسجد کا فیصلہ آنے کے بعد سے ہی مسلمان ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو لے کر فکر مند ہیں نیز ملک کی قومی یکجہتی کو اس سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عرضداشت میں مزید لکھا گیا ہے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ میں جمعیۃ علماء ہند اہم فریق تھی جس میں پلیس آف ورشپ قانون کی دفعہ 4 کو قبول کیا گیا ہے اور اس قانون کی آئینی حیثیت کو بھی سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے، لہذا اب اس قانون کو چیلنج کرکے ملک کا امن ایک بار پھر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، نیز اگر ہندو سادھوؤں کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کو عدالت نے سماعت کے لے قبول کرلیا تو مقدمہ دائر کرنے کا ایک سیلاب آجائے گا،جس کی وجہ سے ملک میں مزید بدامنی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ کل سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت سے قبل آج دوپہر بعد ایڈوکیٹ اعجاز مقبول اور ان کی معاون وکیل اکرتی چوبے نے ڈاکٹر راجیو دھون سے ان کے آفس میں کانفرنس بھی کی، جس کے دوران سادھوؤں کی تنظیم کی جانب سے داخل پٹیشن کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور کل کی سماعت کے لئے لائحہ عمل تیار کیا گیا۔

next