سعودی دوشیزہ امہ چینی کھیل ’تائی شی‘ کی مشرق وسطیٰ میں ماہر کوچ کیسے بنی؟

امۃ اللہ نے کہا کہ میں نے اس کھیل سے صبر اور سکون سیکھا۔ اس سے لمحہ لمحہ زندہ رہنے اور اپنے آپ پر توجہ مرکوز کرنے کا فن سیکھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنے جذبات کو کس طرح سنبھالنا اور قابو میں رکھنا ہے۔

سعودی دوشیزہ چینی کھیل ’تائی شی‘ کی مشرق وسطیٰ میں ماہر کوچ کیسے بنی؟
سعودی دوشیزہ چینی کھیل ’تائی شی‘ کی مشرق وسطیٰ میں ماہر کوچ کیسے بنی؟
user

یو این آئی

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ایک دوشیزہ امۃ اللہ نے چین کے ’تائی شی‘ نامی مارشل آرٹ گیم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں باقاعدہ اس کی کوچنگ شروع کی ہے۔ امۃ اللہ انتہائی مہارت اور ذہنی توجہ کے ساتھ ’تائی شی‘ کے طریقے سکھانے کے لیے پرسکون انداز میں اپنے ہاتھوں کو حرکت میں لاتی ہے جس سے اس کھیل میں اس کی مہارت تامہ کی عکاسی ہوتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا کہ "تائی شی" چینی کونگ فو کھیل کے ایک طریق کار میں سے ایک ہے۔ یہ تقریباً تین ہزار سال پرانا کھیل ہے۔ مگر دلچسپ یہ ہے کہ اس میں جسم کو پرسکون اور آرام سے حرکت میں لانا ہوتا ہے۔ اس نے بتایا کہ "تائی شی" کے طریقہ کار کو برطانیہ میں کمر کے درد اور دیگر دائمی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک تھراپی کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ سنہ 2010 ء سے میں نے بھی نہ صرف اسے علاج کے ایک طریقے کے طور پر اختیار کیا بلکہ اسے اپنا پسندیدہ مشغلہ بنا کر اس کے تمام گر سیکھنا شروع کر دیئے۔

اس نے مزید کہا کہ میں نے اس کھیل سے صبر اور سکون سیکھا۔ کھیل کھیل میں میں نے ایک لمحے کو زندہ رہنے اور اس میں اپنے آپ پر توجہ مرکوز کرنے کا فن سیکھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنے جذبات کو کس طرح سنبھالنا اور قابو میں رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے اپنے جسم کے کچھ حصوں کو بھی دریافت کرنا شروع کیا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ جسمانی اعضا کو کئی انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ میں نے اپنے جوڑوں کو کنٹرول کرنا سیکھا۔ تاکہ ان کے تحفظ اور ان میں ہونے والی تکلیف اور چوٹوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔

امۃ اللہ نے کہا کہ ’تائی شی‘ کا کھیل انسانی جسم کے لیے اہم ہے کیوں کہ یہ ایک ہی وقت میں ذہنی اور جسمانی کھیل ہے۔ دماغ کو جسم کے ساتھ بات چیت کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ اس میں صحیح سانس لینے کے طریقے کا پتا چلتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسم کی حیثیت میں درست ہوتی ہے اور حرکت کے دوران اس کی تفصیلات کے استعمال کا پتا چلتا ہے۔ اس فن کے نتیجے میں جسم میں توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

امۃ اللہ نے کہا کہ طبی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ تائی شی کی مشق کے دوران شعوری طور پر آہستہ چلنے سے جسم کے مختلف رقیقوں سائل مادوں کے بہاؤ میں مدد ملتی ہے۔ جس کے نتیجے میں خون کی گردش مائعات میں بہتری واقع ہوتی ہے اور انسان کی عمومی صحت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

next