کیا ہے گینگسٹر وکاس دوبے کی گرفتاری کا راز، رات میں مندر کیا کرنے گئے تھے اجین کے ڈی ایم-ایس پی؟

گزشتہ ہفتہ کانپور انکاؤنٹر کے دوران 8 پولس اہلکاروں کا بے رحمی سے قتل کر فرار ہوا ملزم گینگسٹر وکاس دوبے بالآخر پکڑا گیا۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ وکاس دوبے کو پولس نے گرفتار کیا یا اس نے خودسپردگی کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے کانپور ضلع واقع چوبے پور میں گزشتہ ہفتہ 8 پولس اہلکاروں کا بے رحمی سے قتل کر کے فرار ملزم گینگسٹر وکاس دوبے بالآخر پکڑا گیا۔ وکاس دوبے کو مدھیہ پردیش کے اجین سے گرفتار کیا گیا۔ لیکن اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وکاس دوبے کو پولس نے گرفتار کیا ہے یا پھر خود اس نے خودسپردگی کی ہے۔ یہ سوال اس لیے اٹھ رہا ہے کیونکہ جس طرح سے وکاس کی گرفتاری ہوئی ہے، لوگوں کو یقین نہیں ہو رہا کہ یہ اجین پولس کی کامیابی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ وکاس دوبے نے خود ہی مقامی میڈیا اور پولس کے سامنے خودسپردگی کی بات کہی۔ پولس کی گرفت میں آنے کے بعد بھی وکاس میں کوئی گھبراہٹ دکھائی نہیں دی بلکہ وہ پولس والوں کے سامنے چیخ کر یہ کہتا ہوا نظر آیا کہ "میں وکاس دوبے ہوں... کانپور والا۔"

وکاس دوبے کو گرفتار کرنے کے بعد مدھیہ پردیش پولس جب اسے تھانہ لے جانے کے لیے گاڑی کے پاس لے کر پہنچی تو وہاں موجود میڈیا کے کیمرے کے سامنے وکاس نے قبول کرتے ہوئے زور سے چیخا "میں وکاس دوبے ہوں، کانپور والا"۔ خبر رساں ادارہ اے این آئی نے اس واقعہ کا ایک ویڈیو اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر بھی کیا ہے۔

اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر وہ گرفتار ہونے کے بعد چیخ چیخ کر کسے پیغام دے رہا تھا کہ وہ گرفتار ہو گیا ہے اور وہی وکاس دوبے ہے۔ کوئی گینگسٹر سب کے سامنے اپنی شناخت کیوں ظاہر کر رہا تھا۔ وہ بھی اس طرح سے جیسے اس نے کوئی بہت بڑا کام کیا ہو اور اس کے بعد وہ گرفتاری دینے آیا ہو۔ کیا اس کی گرفتاری منصوبہ بند تھی، جس کے تحت یہ سارا ڈرامہ تیار کیا گیا۔ کوئی گینگسٹر مندر میں آتا ہے اور پھر چیخ چیخ کر سب کو اپنی شناخت بتاتا ہے۔ وہ بھی ایسا خونخوار گینگسٹر جس نے ایک پولس اسٹیشن میں گھس کر ایک درجہ حاصل وزیر کا قتل کیا ہو۔ جو 8 پولس والوں کا بے رحمی سے قتل کا ذمہ دار ہو، وہ اس طرح گرفتار ہو جائے تو سوال تو کیے ہی جائیں گے۔

اسی درمیان یہ بھی خبر آ رہی ہے کہ بدھ کی رات اجین کے ضلع مجسٹریٹ آشیش سنگھ اور پولس سپرنٹنڈٹ منوج کمار مہاکال مندر پہنچے تھے۔ خبر ہے کہ دونوں نے مندر احاطہ کے ایک کمرے میں میٹنگ کی اور چلے گئے۔ افسروں نے مہاکال کے دَرشن بھی نہیں کیے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وکاس دوبے کی گرفتاری کا ڈرامہ تیار کیا گیا؟ اگر نہیں تو کل رات اجین کے ضلع مجسٹریٹ اور پولس سپرنٹنڈنٹ مہاکال مندر میں کیا کر رہے تھے؟ یہ کیسا اتفاق ہے کہ کل رات میں دو بڑے افسر مندر احاطہ میں بند کمرے میں میٹنگ کرتے ہیں اور صبح وکاس دوبے کی گرفتاری وہیں سے ہوتی ہے؟

سوال تو وکاس دوبے کے فرید آباد سے اجین پہنچنے کو لے کر بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ تو کیا پوری پلاننگ کے تحت وکاس دوبے فرید آباد سے اجین پہنچا اور پھر خودسپردگی کی؟ ایسے مزید کئی سوالات ہیں جن کے جواب یو پی اور ایم پی پولس کے ساتھ ساتھ دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو بھی دینے ہوں گے۔

Published: 9 Jul 2020, 4:11 PM
next