حکومت کے دعوے غلط ہیں، 2025 میں فضائی آلودگی میں بہتری نہیں آئی: اجئے ماکن

اجئے ماکن کا کہنا ہے کہ حکومت کو فضائی آلودگی کے مسئلے پر اعداد و شمار کی حقیقی تصویر عوام کے سامنے رکھنی چاہیے اور صرف موسمی عوامل کی بنیاد پر کامیابی کے دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔

<div class="paragraphs"><p>اجئے ماکن / اے آئی</p></div>
i

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اجئے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے مسئلے پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک تفصیلی تجزیاتی رپورٹ اور ویڈیو جاری کی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے پیغام میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے 2025 میں دہلی کی فضائی کیفیت میں بہتری کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ موسمی اثرات کو الگ کر دیا جائے تو صورتحال پہلے سے زیادہ تشویش ناک نظر آتی ہے۔

اجئے ماکن نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے گزشتہ 5 برسوں کے فضائی معیار کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور موسمی عوامل کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے تقریباً 35 ہزار ’ڈسیزن ٹریز‘ کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ فضائی آلودگی میں جو تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، وہ حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہیں یا صرف موسم کے بدلتے حالات کا اثر۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2025 میں دہلی کا فضائی معیار گزشتہ سال کے دسمبر کے مقابلے میں 56 اے کیو آئی پوائنٹس زیادہ خراب رہا۔ حکومت نے اس کی وجہ ساکن یعنی ٹھہری ہوئی ہواؤں کو قرار دیا، لیکن تحقیق کے مطابق یہ عنصر صرف تقریباً نصف فرق کی وضاحت کرتا ہے۔ ماکن کے مطابق باقی تقریباً 24 پوائنٹس کی خرابی حقیقی ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ موسمی حالات پر۔


رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں دہلی کا اوسط اے کیو آئی 362 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد بھی یہ تقریباً 350 کے قریب رہا۔ اجئے ماکن نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 کے ساتھ مل کر یہ کم از کم 2021 کے بعد کا سب سے زیادہ آلودہ دسمبر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ موسم سرما کے مقابلے میں 2025 کی سردیوں کے دوران فضائی آلودگی میں 29 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے اندازے کے مطابق موسمی اثرات کو ہٹا دینے کے بعد بھی تقریباً 7 پوائنٹس کی حقیقی خرابی برقرار رہتی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ زمینی سطح پر حالات میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔

اجئے ماکن نے گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (گریپ) کے نفاذ پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق جولائی سے دسمبر تک کے عرصہ پر مشتمل گریپ سیزن میں فضائی معیار میں صرف 1.2 فیصد ظاہری اور 0.8 فیصد موسمی اثرات سے پاک بہتری دیکھی گئی، جو عملی طور پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 5 گریپ سیزنز کا مجموعی جائزہ لینے پر کوئی حقیقی بہتری نظر نہیں آتی بلکہ حالات تقریباً 20 پوائنٹس مزید خراب دکھائی دیتے ہیں۔


کانگریس لیڈر کے مطابق حکومت کی سالانہ کامیابی کا پورا دعویٰ دراصل جنوری 2024 کے ایک غیر معمولی مہینے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2024 گزشتہ 8 برسوں کا سب سے زیادہ ساکن اور غیر معمولی موسمی حالات والا جنوری تھا، جب اوسط ہواؤں کی رفتار صرف 6.6 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جبکہ عام طور پر یہ 8 سے 9 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہوتی ہے۔ اسی مہینے میں 17 دن مکمل طور پر پُرسکون رہے اور صرف ایک دن بارش ہوئی، جس نے فضائی معیار کے اعداد و شمار کو متاثر کیا۔

اجئے ماکن نے مزید کہا کہ دہلی میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 7.4 فیصد اور اوزون کی مقدار میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو صحت عامہ کے لیے مزید خطرے کی علامت ہے۔ انہوں نے عالمی اور قومی معیارات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی فضا اب بھی قومی فضائی معیار کے مقررہ پیمانے سے 2.4 گنا اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی حد سے تقریباً 20 گنا زیادہ آلودہ ہے۔ ان کے مطابق جہاں بیجنگ کا اوسط فضائی آلودگی انڈیکس 29 ہے، وہیں دہلی کی سردیوں کا اوسط 163 ریکارڈ کیا گیا، جو بیجنگ سے تقریباً 5.5 گنا زیادہ ہے۔


اجئے ماکن نے یونیورسٹی آف شکاگو کے ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہلی کی فضائی آلودگی شہریوں کی متوقع عمر میں اوسطاً تقریباً 10 سال کی کمی کا سبب بن رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر انہوں نے حکومت کے سامنے 3 اہم مطالبات بھی رکھے۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ہر سہ ماہی میں موسم کے اثرات سے پاک فضائی معیار کا باضابطہ اسکور کارڈ جاری کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ ہے فصلوں کی باقیات جلانے کے موسم کے دوران سال بہ سال آلودگی میں کمی کے لیے قانونی طور پر پابند اہداف مقرر کیے جائیں۔ اسی طرح تیسرا مطالبہ ہے کہ دسمبر میں آلودگی کے حقیقی 24 پوائنٹس اضافے اور سردیوں میں 29 پوائنٹس کی گراوٹ کے حوالے سے حکومت ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کرے۔

سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں اجئے ماکن نے کہا کہ ’’صاف ہوا میں سانس لینا کسی سہولت کا نہیں بلکہ ایک بنیادی حق کا معاملہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فضائی آلودگی کے مسئلے پر اعداد و شمار کی حقیقی تصویر عوام کے سامنے رکھنی چاہیے اور صرف موسمی عوامل کی بنیاد پر کامیابی کے دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔