دہلی کی ہوا میں بہتری کا دعویٰ کھوکھلا، کئی علاقوں میں آلودگی مزید خطرناک: اجے ماکن

کانگریس کے قومی خزانچی اور راجیہ سبھا رکن اجے ماکن نے کہا ہے کہ دہلی میں فضائی آلودگی بدستور سنگین ہے، جبکہ حکومت بہتری کے دعوے کر رہی ہے۔ انہوں نے کئی علاقوں میں آلودگی بڑھنے پر تشویش ظاہر کی

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: کانگریس کے قومی خزانچی اور راجیہ سبھا رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی حالت کو لے کر مرکزی اور دہلی حکومتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجدھانی میں آلودگی کا بحران اب بھی سنگین ہے لیکن حکومتیں صرف دعووں اور اعداد و شمار کے سہارے کامیابی کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی ہوا میں جو معمولی بہتری دکھائی جا رہی ہے، وہ پالیسیوں کی کامیابی نہیں بلکہ موسم کا اثر ہے۔

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں دہلی کی ہوا 17 فیصد بہتر دکھائی دے رہی ہے لیکن اگر موسمی اثرات کو الگ کر دیا جائے تو حقیقی بہتری صرف دو فیصد رہ جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کا زمینی سطح پر کوئی بڑا اثر نظر نہیں آ رہا۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے تمام 43 فضائی نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ اسی طرح تمام 44 مراکز پر پی ایم 10 کی سطح نہ صرف عالمی ادارۂ صحت بلکہ ہندوستان کے اپنے قومی فضائی معیار سے بھی اوپر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بہتری کے دعوے عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔


کانگریس لیڈر نے کہا کہ آلودگی کا مسئلہ صرف برقرار نہیں ہے بلکہ کئی علاقوں میں پہلے سے زیادہ خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نائٹروجن آکسائیڈ کے سب سے زیادہ متاثرہ مرکز پر 206 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ شہر کے مختلف حصوں میں آلودگی کا بوجھ غیر مساوی انداز میں بڑھ رہا ہے۔

اجے ماکن نے سلفر ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی سطح کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 30 میں سے 24 مراکز پر صورتحال مزید بگڑی ہے، جبکہ ایک مقام پر 457 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ صورتحال ڈیزل جنریٹر اور صنعتی ذرائع سے ہونے والی آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے، لیکن حکومت اس پر مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ کے متاثرہ علاقوں میں فوری جانچ کی جائے، تمام فضائی نگرانی مراکز کا ریئل ٹائم ڈیٹا عوام کے لیے جاری کیا جائے اور عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد کو قانونی معیار بنایا جائے۔ اجے ماکن نے کہا کہ صاف ہوا میں سانس لینا عوام کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس حق کے تحفظ میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔