فضائی آلودگی محض موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ نہیں، یہ پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں ناکامی کا ثبوت ہے: اجئے ماکن

اجئے ماکن کا کہنا ہے کہ اگر موسمی اثرات کو الگ کر کے دیکھا جائے تو سلفر ڈائی آکسائیڈ کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ 38 میں سے 26 اسٹیشنوں پر آلودگی کے اس عنصر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اجئے ماکن، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

کانگریس کے سینئر لیڈر اور خزانچی اجئے ماکن نے دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر ایک بار پھر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے حکومت سے اس معاملے میں فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ راجدھانی کی ہوا کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے اور کئی علاقوں میں صورت حال گزشتہ سال کے مقابلے مزید سنگین ہو چکی ہے۔

اجئے ماکن نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ایک ہی شہر میں دو طرح کی ہوائیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق دہلی کے 20 فضائی نگرانی مراکز (اسٹیشنوں) پر ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آنند وہار کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر پایا گیا، جہاں اے کیو آئی کی سطح 335 تک پہنچ گئی، جو ’بہت خراب‘ زمرے میں آتی ہے۔ یہ سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 142 پوائنٹس یا تقریباً 73 فیصد زیادہ ہے۔


اجئے ماکن کا کہنا ہے کہ اگر موسمی اثرات کو الگ کر کے دیکھا جائے تو سلفر ڈائی آکسائیڈ (SO₂) کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ 38 میں سے 26 اسٹیشنوں پر آلودگی کے اس عنصر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر یہ اضافہ 64 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلودگی کا بوجھ پورے شہر میں یکساں نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں مختلف شدت کے ساتھ موجود ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ موسمی عوامل کو نکال دینے کے بعد کاربن مونو آکسائیڈ (CO) میں 16 فیصد اور سلفر ڈائی آکسائیڈ میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ محض موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں ناکامی کا ثبوت ہے۔

کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس وقت دہلی کے تمام 43 نگرانی مراکز پر ’پی ایم 2.5‘ کی سطح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقررہ حد سے زیادہ ہے، جبکہ ’پی ایم 10‘ کی سطح بھی تمام 41 متعلقہ مراکز پر ہندوستان کے قومی فضائی معیار (این اے اے کیو ایس) سے اوپر درج کی گئی ہے۔ اجئے ماکن کے مطابق ’پی ایم 10‘ اس وقت دہلی کے 43 میں سے 37 اسٹیشنوں پر سب سے بڑا آلودگی پھیلانے والا عنصر بن چکا ہے۔ گزشتہ روز کے مقابلے میں 43 میں سے 34 اسٹیشنوں پر صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔


موسم سے متعلق اہم حقائق سامنے رکھنے کے بعد اجئے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاربن مونو آکسائیڈ کے بڑے ذرائع، خصوصاً گاڑیوں کے دھوئیں اور کھلے میں کچرا یا دیگر اشیا جلانے کے عمل پر فوری روک لگائی جائے۔ انہوں نے آنند وہار میں مقامی سطح پر آلودگی کے ذرائع کے خلاف فوری کارروائی اور عوام کے لیے صحت سے متعلق وارننگ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جن دنوں فضائی معیار ’خراب‘ یا اس سے اوپر کے درجے میں پہنچ جائے، ان دنوں خصوصی عوامی صحت پروٹوکول نافذ کیے جانے چاہئیں تاکہ شہریوں کو آلودگی کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔ اپنی پوسٹ کے آخر میں اجئے ماکن نے کہا کہ ’’سانس لینا ایک بنیادی حق ہے، کوئی سہولت نہیں۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔