’ووٹ چوری‘ کرنے والی حکومت ’مزدوری چوری‘ بھی کر رہی، روزگار منصوبہ میں بدعنوانی پر کانگریس کا سخت رد عمل
جئے رام رمیش نے مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ مہاراشٹر میں ’وی بی-جی رام جی‘ منصوبہ کے تحت کاغذوں پر تو ہزاروں مزدور کام کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں مزدوری کی چوری ہو رہی ہے۔

مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ ضلع بیڈ میں ’وی بی-جی رام جی‘ منصوبہ کے تحت ہزاروں مزدوروں کے کام کرنے کا دعویٰ کاغذوں پر کیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صحافی سپریا شرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ منریگا کی جگہ وی بی-جی رام جی منصوبہ لانا دیہی ہندوستان کے سماجی تحفظ کے اس نظام پر سرجیکل اسٹرائیک ہے، جو مشکل حالات میں دیہی مزدوروں کا سہارا بنتا تھا۔
دراصل سپریا شرما نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ مہاراشٹر میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں وی بی-جی رام جی منصوبے کے تحت ہزاروں مزدوروں کے کام کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں کام کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق ’اسکرول‘ کی صحافی تبسم برناگروالا نے ضلع بیڈ میں 5 مقامات کا دورہ کیا، جہاں انہیں کسی بھی مقام پر مزدور کام کرتے ہوئے نہیں ملے۔ جن مزدوروں کے نام حاضری رجسٹر میں درج تھے، انہیں اس بات کی بھی جانکاری نہیں تھی کہ ان کے نام پر کام کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی اجرت، یعنی مزدوری کس اکاؤنٹ میں جمع کی جا رہی ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سپریا شرما کی پوسٹ کو ری-پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے بیڈ اور دیگر اضلاع گزشتہ ایک دہائی کی بدترین خشک سالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے انتہائی مشکل حالات میں منریگا دیہی مزدوروں کے لیے مدد اور تحفظ کی ضمانت تھا، لیکن اس کی جگہ وی بی-جی رام جی منصوبہ لانا دیہی ہندوستان کے سماجی تحفظ کے نظام پر سرجیکل اسٹرائیک سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اسکرول‘ کی صحافی کی جانب سے زمینی سطح پر کی گئی تفصیلی تحقیقات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بیشتر دیہی مزدور کئی مہینوں سے کام نہیں کر رہے ہیں، اس کے باوجود کاغذوں پر انہیں کام کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ اس طرح مزدوروں کی مزدوری مقامی سیاست داں ہضم کر رہے ہیں، جن کا تعلق یقیناً حکمراں پارٹی سے ہے۔
جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اتر پردیش اور بی جے پی کی حکومت والی دیگر ریاستوں میں بھی جعلی حاضری درج کرنے اور کلون ایپ کے ذریعہ دھوکہ دہی کے معاملات میڈیا میں سامنے آ چکے ہیں۔ یہ محض بدعنوانی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ مزدوروں کی محنت کی کمائی کی منظم چوری ہے۔ کانگریس لیڈر نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ووٹ چوری‘ کرنے والی سرکار نے اب دیہی مزدوروں کی ’مزدوری چوری‘ کرنے میں بھی مہارت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو ’دیہی مزدوری کی چوری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کو کاغذوں پر کام کرتے ہوئے دکھانا، جبکہ حقیقت میں انہوں نے کئی مہینوں سے کام ہی نہ کیا ہو، دیہی غریبوں کے حقوق اور ان کی روزی روٹی پر حملہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
