وی بی جی رام جی: چندہ اور چڑھاوے کی چوری کے بعد اب یوپی میں غریبوں کے حقوق کی چوری، کانگریس

یوپی میں وی بی جی رام جی میں بدعنوانی، فرضی حاضری اور مزدوری کی ادائیگی میں بے ضابطگیوں پر کانگریس نے تمام 75 اضلاع میں جانچ، وائٹ پیپر اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

اتر پردیش میں منریگا (اب وی بی جی رام جی) کے تحت بدعنوانی، فرضی حاضری اور مزدوری کی ادائیگی میں بے ضابطگیوں کو لے کر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ریاست میں نام نہاد ڈبل انجن حکومت کے دور میں بدعنوانی کا کھیل جاری ہے اور اب غریب مزدوروں کے حقوق پر بھی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اتر پردیش کے ایودھیا سمیت مختلف علاقوں میں منریگا میں فرضی واڑے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بی جے پی کی بدعنوانی کی ایک اور پرت کھل گئی ہے۔ ان کے مطابق، کئی اضلاع میں ڈیجیٹل حاضری میں گڑبڑی اور کلون ایپ کے استعمال کے الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق اور عوامی پیسے کی لوٹ پر بی جے پی کو جواب دینا چاہیے اور پورے صوبے میں غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جانی چاہیے۔

دریں اثنا، اتر پردیش کانگریس کمیٹی کی صدر آرادھنا مشرا نے لکھنؤ میں واقع ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران منریگا میں بدعنوانی، فرضی حاضری، مزدوری کی ادائیگی میں بے ضابطگیوں اور سہ سطحی پنچایتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے اٹھائے۔


کانگریس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، آرادھنا مشرا نے کہا کہ پہلے چندہ چوری، پھر چڑھاوے کی چوری، اس کے بعد ووٹ چوری اور اب غریب مزدوروں کی مزدوری کی چوری کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یو پی اے حکومت نے منریگا کو محض ایک اسکیم کے بجائے قانونی حق کی شکل دی تھی، تاکہ دیہی غریبوں کو ان کے گاؤں میں روزگار مل سکے، نقل مکانی پر روک لگے اور دیہی ترقی کو رفتار حاصل ہو۔

آرادھنا مشرا نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے 8 جولائی 2025 کو جاری ایک خط میں کلون ایپ، فرضی اور ڈپلیکیٹ تصاویر، غلط لوکیشن ٹیگنگ، کام کیے بغیر مزدوری کی ادائیگی اور بارش کے دوران حاضری درج کیے جانے جیسی بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس کے بعد 12 ریاستوں میں نگرانی کے لیے ٹیمیں بھیجی گئیں۔

انہوں نے ایودھیا، سنبھل، رام پور، ہردوئی، غازی پور، دیوریا، مہاراج گنج، چندولی اور جالون سمیت اتر پردیش کے نو اضلاع میں جانچ کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایودھیا میں شدید بارش کے دوران 1,224 مزدوروں کی حاضری کیسے درج کی گئی؟ انہوں نے پوچھا کہ جانچ رپورٹ اب تک عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی گئی اور کلون ایپ اور فرضی اے پی کے فائلوں کی جانچ کیوں نہیں کرائی گئی۔

کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ریاست کے تمام 75 اضلاع کے ہر ترقیاتی بلاک اور گرام پنچایت میں منریگا کے کاموں، حاضری اور ادائیگیوں کی وسیع اور شفاف جانچ کرائی جائے۔ پارٹی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور پورے معاملے پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔


پنچایتی انتخابات کے معاملے پر آرادھنا مشرا نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پنچایتیں جمہوریت اور دیہی ترقی کی بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق، وقت پر انتخابات کرانا حکومت کا اختیار نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عدالتی ہدایات کے مطابق تین ماہ کے اندر غیر جانب دارانہ اور شفاف پنچایتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔