ایندھن کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ، کانگریس کا مرکزی حکومت پر حملہ

رندیپ سرجےوالا نے ٹوئٹر پر کہا، ’’مودی حکومت کی طرف سے عام آدمی کے بجٹ پر روزانہ حملہ، روز جبراً وصولی، روزانہ استحصال جاری ہے۔‘‘

مہنگائی کے خلاف یوتھ کانگریس کا مظاہرہ/ قومی آواز / وپن
مہنگائی کے خلاف یوتھ کانگریس کا مظاہرہ/ قومی آواز / وپن
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس نے بدھ کے روز ایندھن کی قیمتوں میں لگاتار ہو رہے اضافہ کے لئے مرکز پر تنقید کی اور اسے مودی حکومت کی جانب سے کی جا رہی ’جبراً وصولی‘ قرار دیا۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجےوالا نے ٹوئٹر پر کہا، ’’مودی حکومت کی طرف سے عام آدمی کے بجٹ پر روزانہ حملہ، روز جبراً وصولی، روزانہ استحصال جاری ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’آج آٹھویں دن پٹرول ڈیزل کے داموں میں اضافہ ہوا اور اب تک دام 5.60 روپے فی لیٹر بڑھائے جا چکے ہیں۔ کیا اس 'لوٹ' کے ختم ہونے کی کوئی تاریخ مقرر ہے؟ کیا وزیراعظم عوام کو جوابدہ نہیں؟ کوئی جواب ہے؟‘‘

قبل ازیں، گزشتہ روز یوتھ کانگریس نے پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں لگاتار اضافہ اور بڑھتی مہنگائی کو لے کر وزارت پٹرولیم کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ اس مظاہرے میں خواتین ورکرز کی بڑی تعداد ایل پی جی سلنڈر اور گھڑے لے کر پہنچی تھیں۔


خیال رہے کہ آج صبح پٹرول اور ڈیزل کی گھریلو خوردہ فروخت کی قیمت 9 دنوں میں آٹھویں بار بڑھائی گئی۔ گزشتہ منگل تک ایندھن کی قیمتیں نومبر 2021 سے مستحکم تھیں۔ نومبر میں مرکز نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کو بالترتیب 5 روپے اور 10 روپے فی لیٹر کم کیا تھا۔

ملک کی راجدھانی دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 80-80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 101.01 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 92.27 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 Mar 2022, 12:17 PM