بغیر دعوت بریانی کھانے سے تعلقات بہتر نہیں ہوتے، بی جے پی کی قوم پرستی پر منموہن سنگھ کا حملہ

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ’’مودی حکومت کو اقتصادی پالیسی کی کوئی سمجھ نہیں اور وہ خارجہ پالیسی کے معاملہ میں بھی ناکام رہی ہے، چین ہماری سرحد پر بیٹھا ہے اور اسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جمعرات کے روز ناقص پالیسیوں کے سبب پیدا ہونے والے معاشی بحران، بے روزگاری اور بڑھتی مہنگائی کے حوالہ سے مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 7.5 سال تک حکومت چلانے کے بعد بھی مرکز اپنی غلطی تسلیم کرنے اور اسے درست کرنے کے بجائے سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔

ملک کی 5 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے درمیان سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ابوہر ریلی سے عین قبل ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے مرکز کی مودی حکومت پر براہ راست حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری بڑی خواہش تھی کہ میں پنجاب، اتراکھنڈ، گوا، اتر پردیش اور منی پور کے بھائیوں اور بہنوں کے پاس جا کر ملک کے حالات پر بات کروں، لیکن موجودہ حالات میں ڈاکٹروں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اس ویڈیو پیغام کے ذریعے آپ سے بات کر رہا ہوں۔


منموہن سنگھ نے کہا کہ آج کی صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ کورونا کے درمیان مرکزی حکومت کی غیر دور اندیش پالیسیوں کی وجہ سے ایک طرف لوگ گرتی ہوئی معیشت، بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں تو دوسری طرف ہمارے حکمران آج سات سال حکومت چلانے کے بعد بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں درست کرنے کے بجائے لوگوں کی پریشانیوں کے لئے ہمارے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں واضح طور پر مانتا ہوں کہ وزیراعظم کا عہدہ ایک خاص وقار رکھتا ہے اور تاریخ کو مورد الزام ٹھہرانے سے اپنے گناہ کم نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم کے طور پر دس سال کام کرتے ہوئے میں نے خود بولنے کی بجائے اپنے کام کے بولنے کو ترجیح دی۔ ہم نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے کبھی ملک کو تقسیم نہیں کیا، کبھی سچائی پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی، کبھی ملک اور عہدے کے وقار کو کم نہیں ہونے دیا۔ ہر مشکل کے باوجود ہم نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان اور ہندوستانیوں کی قدر کو بلند کیا۔


سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں مطمئن ہوں کہ مجھ پر ’مون موہن‘، کمزور اور بدعنوانی کے الزام عائد کرنے والی بی جے پی اور اس کی بی، سی ٹیموں کے پروپیگنڈہ کی قلعی ملک کے سامنے کھل گئی ہے اور 2004 سے 2014 تک جو بہتر کام کئے گئے تھے ملک انہیں یاد کر رہا ہے۔

چند روز قبل وزیر اعظم کی حفاظت کے نام پر بی جے پی کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار چرنجیت سنگھ چنی اور یہاں کے لوگوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جسے کسی بھی لحاظ سے درست عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کسان تحریک کے دوران بھی پنجاب اور پنجابیت کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ پنجابیوں کے بارے میں کیا نہیں کہا گیا جن کی جرات، بہادری، حب الوطنی اور قربانی کو پوری دنیا سلام پیش کرتی ہے۔ پنجاب کی سرزمین سے پیدا ہونے والے ایک سچے ہندوستانی کے طور پر، مجھے اس پورے واقعے سے تکلیف پہنچی ہے۔


موجودہ مرکزی حکومت کو معیشت کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔ ان کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک معاشی بحران کی لپیٹ میں آ گیا، آج پورے ملک میں بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے۔ کسان، تاجر، طالب علم، خواتین سب پریشان ہیں، ملک کے کسان اناج کے محتاج ہو رہے ہیں، ملک میں معاشرتی ناہمواری بڑھ رہی ہے، لوگوں پر قرضے مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ آمدنی کم ہو رہی ہے، امیر اور امیر ہوتے جا رہے ہیں اور غریب اور غریب ہوتے جا رہے ہیں لیکن یہ حکومت اعداد و شمار کی بازیگری کر کے سب کچھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس حکومت کی پالیسی اور نیت دونوں میں خامی ہے۔ ہر پالیسی خود غرضی سے پر رہتی ہے، اور نیت میں نفرت اور تقسیم ہوتی ہے۔ اپنے مفاد کے حصول کے لیے لوگوں کو ذات پات، مذہب اور علاقے کے نام پر تقسیم کیا جا رہا ہے، انہیں آپس میں لڑایا جا رہا ہے۔ اس حکومت کی جعلی قوم پرستی جتنی کھوکھلی ہے، اتنی ہی زیادہ خطرناک بھی ہے۔ ان کی قوم پرستی 'پھوٹ ڈالو اور راج کرو' کی برطانوی پالیسی پر منحصر ہے۔ جو آئین ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے پر اس حکومت کا کوئی عقیدہ نہیں ہے اور آئینی اداروں کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔


ساتھ ہی خارجہ امور پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک صرف اندرونی مسئلہ سے ہی دو چار نہیں ہے بلکہ یہ حکومت خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ چینی فوجی پچھلے ایک سال سے ہماری پاک سرزمین پر بیٹھے ہیں لیکن اس سارے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پرانے دوست ہم سے مسلسل ٹوٹ رہے ہیں جبکہ پڑوسی ممالک سے بھی ہمارے تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اب برسراقتدار حکمرانوں کو یہ بات سمجھ آ گئی ہوگی کہ لیڈروں کو زبردستی گلے لگانے، جھولنے یا بغیر بلائے بریانی کھانے سے ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہوتے۔ حکومت کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ چہرہ بدلنے سے اس کی حیثیت نہیں بدلتی۔ جو سچ ہے، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتا ہے۔ بڑی بڑی باتیں کہنا بہت آسان ہے لیکن ان باتوں کو عملی جامہ پہنانا بہت مشکل ہے۔


اس وقت پنجاب سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے سامنے بڑے چیلنجز ہیں جن کا صحیح طریقے سے مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے۔ پنجاب کی ترقی، زراعت میں خوشحالی کا مسئلہ اور بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنا بہت ضروری ہے اور یہ کام صرف کانگریس پارٹی ہی کر سکتی ہے۔ میں پنجاب کے عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا قیمتی ووٹ کانگریس پارٹی کو ہی دیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Feb 2022, 4:40 PM
;