ہری دوار اشتعال انگیز تقریر معاملہ میں پانچ رکنی ایس آئی ٹی کی تشکیل

نرسمہانند گری کا کہنا ہے کہ حکومت دباؤ میں آکر ایسے فیصلے لے رہی ہے۔ اتراکھنڈ میں بھی ایک مخصوص طبقہ کا غلبہ نظر آنے لگا ہے۔

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

یو این آئی

ہری دوار: اتراکھنڈ کے ہری دوار دھرم سنسد میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں پولیس نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اس معاملے کی جانچ کے لیے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سطح کے افسر کی سربراہی میں پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ ڈی آئی جی گڑھوال کرن سنگھ نگنیال کا کہنا ہے کہ قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ شمالی ہری دوار کے وید نکیتن میں منعقدہ تین روزہ دھرم سنسد میں وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی، سنت دھرم داس، سادھوی انپورنا بھارتی کو نامزد کرنے کے بعد پولیس نے ڈاسنا کالی مندر کے مہنت اور جونا اکھاڑے کے مہنت مہامنڈلیشور سوامی یتی نرسمہانند اور دھرم راج سندھو کو بھی معاملے میں نامزد کیا ہے۔ اس معاملے میں اب تک پانچ لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔


دھرم سنسد کے کوآرڈینیٹر رہے سوامی یتی نرسمہانند گری کا کہنا ہے کہ حکومت دباؤ میں آکر ایسے فیصلے لے رہی ہے۔ اتراکھنڈ میں بھی ایک مخصوص طبقہ کا غلبہ نظر آنے لگا ہے، کل ہیڈ کوارٹر جا کر جو گھیراؤ کیا گیا ہے، اسی کا ڈر سرکار کو ہے جو جانچ کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔