پیگاسس جاسوسی معاملہ: جنہیں فون ہیک ہونے کا شک ہے، ان سے سپریم کورٹ کی کمیٹی نے طلب کیں تفصیلات

کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں 142 سے زیادہ لوگوں کو اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا، سپریم کورٹ کی کمیٹی فن فونز کی جانچ کرنے کو تیار ہے جنہیں مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا

پیگاسس، تصویر آئی اے این ایس
پیگاسس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پیگاسس جاسوسی معاملہ کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی تکنیکی کمیٹی نے ان لوگوں سے تفصیلات طلب کی ہیں، جنہیں شبہ ہے کہ ان کے فون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کمیٹی نے ایک عوامی نوٹس کے ذریعے کہا ہے کہ ایسے لوگ 7 جنوری تک رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ کمیٹی نے مزید کہا ہے کہ وہ فون کی جانچ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 142 سے زیادہ لوگوں کو اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سیکورٹی لیب کی جانب سے کچھ سیل فون کی فارینزک جانچ میں سیکورٹی میں نقب زنی کی تصدیق ہوئی تھی۔


جن لوگوں کی مبینہ طور پر جاسوسی ہوئی تھی، اس فہرست میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی، انتخابی حکمت عملی ساز پرشانت کشور، دو موجودہ مرکزی وزرا، ایک سابق چیف الیکشن کمشنر، سپریم کورٹ کے دو رجسٹرار، ایک سابق جج کا پرانا نمبر، ایک سابق اٹارنی جنرل کے قریبی معاون اور 40 صحافی شامل ہیں۔

اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں حکومت کی جانب سے بیان دیا گیا تھا۔ تاہم کسی بھی ایوان میں اس پر بحث نہیں ہوئی اور اس پر حزب اختلاف نے اس پر کافی ہنگامہ بھی کیا تھا۔ اکتوبر کے مہینے میں سپریم کورٹ نے اس معاملہ پر کئی عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے تین رکنی خصوصی کمیٹی کے تشکیل کا حکم دیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔