سال نو کی آمد کے ساتھ ہی کورونا کے معاملات میں اضافہ، مہاراشٹر کے دس وزیر اور 21 اراکین اسمبلی متاثر

مہاراشٹر میں کووڈ کے سب سے زیادہ معاملات سامنے آرہے ہیں۔ سال نو کے پہلے روز یکم جنوری کی شام تک ریاست میں 9 ہزار ایک سو ستر کورونا کے معاملات درج کئے جا چکے ہیں۔

کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
user

محی الدین التمش

ممبئی: ملک میں کووڈ۔19 کا قہر برپا ہے۔ کووڈ کے معاملات میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں کووڈ کے معاملات میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ سال نو کی آمد کے ساتھ ہی پہلے روز ریاست مہاراشٹرمیں 13 فیصد کووڈ کے معاملات میں اچھال درج کیا گیا ہے۔ نئے سال کی شروعات میں ہی کووڈ کے معاملات میں اضافے نے ریاستی حکومت حیران کر دیا ہے۔ فلم انڈسٹری کے ساتھ سیاسی افراد بھی کورونا کے قہر سے محفوظ نہیں ہیں۔ ریاست مہاراشٹر کے دس وزراء اور 21 اراکین اسمبلی کورونا متاثر ہوچکے ہیں۔

نائب وزیراعلی مہاراشٹر اجیت پوار کا کہنا ہے کہ کووڈ کے معاملات میں تیزی سے اضافے کی بناء پر ریاستی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے وقفے کو مختصر کیا گیا تھا۔ نائب وزیراعلی کا کہنا ہے کہ ریاست میں کیسیز میں اضافے کے پیشِ نظرریاست میں مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔


واضح رہے کہ مہاراشٹرمیں کووڈ کے سب سے زیادہ معاملات سامنے آرہے ہیں۔ سال نو کے پہلے روز یکم جنوری کی شام تک ریاست میں 9 ہزار ایک سو ستر کورونا کے معاملات درج کئے جاچکے ہیں۔ ان میں 1445 افراد کورونا سے شفایاب ہوئے ہیں جبکہ سات افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں 6 نئے اومیکرون کے معاملا ت درج ہوئے ہیں جبکہ ریاست میں اومیکرون کے450 معاملات کی تصدیق جاچکی ہے۔

ممبئی شہر و مضافات میں اومیکرون کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ ممبئی عظمٰی میونسپل کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق ممبئی میں یکم جنوری کی شام تک 6347 معاملات درج کئے گئے ہیں۔ ان میں پانچ ہزار سات سو سے زیادہ مریض غیر علامتی ہیں یعنی ان مریضوں میں بیماری کی علامات نہیں پائی گئی ہیں۔ ان میں صرف 389 افراد کوہی علاج کے لئے اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔ بی ایم سی نے ممبئی میں ٹیسٹنگ میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ یکم جنوری کو بی ایم سی نے 47 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں۔


ریاستی وزیرصحت راجیس ٹوپے نے کہا ہے کہ ریاست میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ فی الحال زیرغور نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کورونا کیسیز میں اضافے، مریضوں کے ہاسپیٹلائزیشن اور آکسیجن کے استعمال میں اضافے کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے نفاذ کے متعلق فیصلہ کرسکتی ہے۔ راجیش ٹوپے نے کہا کہ اگر ریاست میں آکسیجن کا استعمال سات سو میٹرک ٹن سے تجاوز کرتا ہے تو ریاست میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا جائے گا۔ ریاست کے ایک دوسرے کابینی وزیر کا کہنا ہے کہ ریاست لاک ڈاؤن کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن اس تعلق سے حتمی فیصلہ وزیر اعلیٰ مہاراشٹر ادھو ٹھاکرے کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔