دیوالی میں گلاب کی طرح کھل اٹھا پھولوں کا کاروبار، بازار میں لوٹی رونق

دیوالی کے تہوار کے مدنظر غازی پور پھول منڈی پر گزشتہ 3-2 دنوں سے کافی ہلچل بنی ہوئی ہے، اب پہلے کی طرح دیر رات تک پھولوں کا کاروبار ہونا فی الحال معمول کی بات ہو گئی ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

دیوالی کے تہوار کے مدنظر غازی پور پھول منڈی پر گزشتہ 3-2 دنوں سے کافی ہلچل بنی ہوئی ہے۔ اب پہلے کی طرح دیر رات تک پھولوں کا کاروبار ہونا فی الحال معمول کی بات ہو گئی ہے۔ حالانکہ کئی دکانداروں کے مطابق اس سال گزشتہ سال کے مقابلے میں کاروبار اچھا ہے، لیکن پھول مہنگے ہیں۔ غازی پور پھول منڈی کے علاوہ دہلی میں سروجنی نگر مارکیٹ، لاجپت نگر مارکیٹ، آئی این اے، کالکا جی کرشنا مارکیٹ سمیت سبھی چھوٹے بڑے بازاروں میں پھولوں کی خریداری کو لے کر بھی بھیڑ امنڈ رہی ہے۔ اس سال ایکو فرینڈلی آرٹیفیشیل پھول بھی ان بازاروں میں دستیاب ہیں۔

دراصل غازی پور پھول منڈی میں کل 400 سے زیادہ دکانیں ہیں، جہاں سے ملک کے گوشے گوشے میں پھول پہنچائے جاتے ہیں۔ ان میں بنگلورو، ناسک، تھائی لینڈ، پونے، ہماچل پردیش، اتر پردیش، ہریانہ، مغربی بنگال وغیرہ مقامات سے پھول آتے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ سالوں میں کئی کاروباریوں نے پھولوں کا کاروبار کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کی وجہ سے اس سال پھولوں کی طلب زیادہ ہے لیکن بازار میں ڈیمانڈ کے باوجود اتنا پھول دستیاب نہیں ہے۔ غازی پور پھول منڈی میں پھولوں کا کاروبار کر رہے سلیم بتاتے ہیں کہ اس سال بازار اچھا چل رہا ہے۔ لوگوں کی بھیڑ بھی نظر آنے لگی ہے۔ سرکاری محکمے، گھریلو اور دکاندار سبھی طرح کے لوگ منڈی میں آ کر پھول خرید رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے سبب لوگوں نے پھولوں کی کھیتی نہیں کی۔ اب جا کر کچھ پیسہ آیا ہے تو کاروبار آگے بڑھایا، اس سال پھول کم ہیں لیکن خریدار زیادہ ہیں۔ اس وجہ سے پھول لوگوں کو مہنگے لگ رہے ہیں۔


غازی پور پھول منڈی میں 100 سے زیادہ اقسام کے پھول ملتے ہیں، جن کی قیمت ایک روپے سے لے کر 30 روپے تک ہوتی ہے۔ باقی سیزن کے حساب سے کئی پھولوں کی قیمتیں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔ حالانکہ ہر پھول کی ایک طے مدت ہوتی ہے۔ جیسے کہ گلاب، جربیرا، گیندے کا پھول 2 دن چلتے ہیں۔ وہیں گلداوری، کارنیشن کا پھول 4 دن اور ڈیزی کا پھول 1 ہفتہ چلتا ہے۔ للی کا پھول تو 15 دن تک چل جاتا ہے۔

غازی پور منڈی میں پھولوں کا کاروبار کر رہے شیوا نے موجودہ کاروبار پر اپنی تھوڑی مختلف رائے رکھی ہے۔ ان کے مطابق ’’ہم کاروباریوں کا گزشتہ سال بھی خراب تھا اور اس سال بھی اتنا کاروبار نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’منڈی کے باہر بہت بھیڑ ہے، لیکن پھول منڈی میں اتنی بھیڑ نہیں جتنی ہونی چاہیے۔‘‘ شیوا مزید کہتے ہیں کہ ’’کورونا کے خوف کے سبب لوگ منڈی میں نہیں آ رہے ہیں۔ گیندے کے پھول 400 روپے سے لے کر 700 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ اگر منڈی میں ہی قیمت اتنی زیادہ ہوگی تو منڈی کے باہر رٹیلر عوام کو کتنے کا فروخت کر رہے ہوں گے، اس کا اندازہ خود لگا لیجیے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کورونا کے سبب کسانوں نے پھولوں کی زیادہ کھیتی نہیں کی۔ پہلے منڈی میں 100 سے زیادہ پھولوں کی گاڑیاں آتی تھیں، اس سال اتنی نہیں آئی ہیں۔


کچھ دکانداروں کے مطابق 2 سالوں کے مقابلے میں اس بار گیندے کے پھول دو گنا مہنگے ہیں۔ اگر گیندے کے پھول 400 روپے بنڈل جایا کرتا تھا تو اس سال 800 روپے بنڈل جا رہا ہے۔ غازی پور پھول منڈی میں غازی آباد، نوئیڈا اور دہلی کے مقامی لوگ بھی اس سال منڈی میں جا کر پھول خرید رہے ہیں تاکہ انھیں پھول مناسب قیمت پر مل سکے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں رٹیلر پہنچ رہے ہیں تاکہ انھیں منڈی سے پھول خرید کر باہر فروخت کیا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔