ضمنی انتخابات میں ہار کے بعد بی جے پی نے ایندھن پر مصنوعات ٹیکس میں کمی کی: کانگریس

مرکزی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے جمعرات کے روز کہا کہ حکومت کو ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد یہ اقدام لینے پر مجبور ہونا پڑا۔

پٹرول-ڈیزل، تصویر آئی اے این ایس
پٹرول-ڈیزل، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل پر مصنوعات ٹیکس میں تخفیف کے بعد مرکزی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے جمعرات کے روز کہا کہ حکومت کو ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد یہ اقدام لینے پر مجبور ہونا پڑا، جہاں بی جے پی ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں ہار گئی تھی۔

لوک سبھا میں کانگریس کے نائب قائد گورو گگوئی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مہینوں تک یہ دعویٰ کرنے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کے ٹیکس میں اضافہ ’مفت ٹیکوں کے لئے ادائیگی‘ ہے، بی جے پی کو اپنی منافقت کو واپس نگلنا پڑا اور قیمتوں کو جزوی طور پر واپس لینا پڑا۔


گورو گگوئی نے مزید کہا کہ ’’راہل گاندھی کی جانب سے افراط زر کے حوالہ سے حکومت پر حملہ بولنے کے ایک دن بعد ہندوستان کے لوگوں کو ایک چھوٹی سی راحت حاصل ہوئی ہے۔‘‘

کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کیا، ’’ٹیکس پرجیوی پر مودی حکومت کو سچائی کا آئینہ دکھانے کے بعد لوگوں کو مبارک باد! لیکن یاد رکھیں بی جے پی 14 اسمبلی اور 2 لوک سبھا سیٹیں ضمنی انتخابات میں ہارنے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 5 روپے اور 10 روپے کم کی گئی ہے۔‘‘


انہوں نے کہا کہ مئی 2014 میں پٹرول کی قیمت 71.41 روپے اور ڈیزل کی قیمت 55.49 روپے فی لیٹر تھی لیکن اس وقت خام تیل کے دام 105.71 ڈالر فی بیرل تھے۔ انہوں نے کہا، ’’اب خام تیل 82 ڈالڑ فی بیرل ہے، تو قیمتیں 2014 کے برابر کب ہوں گی؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔