بہار: گھر کے اندر سیلاب کا پانی، چھتوں پر موسلادھار بارش، لوگوں کی زندگی محال

بہار کی بیشتر ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ 10 اضلاع کے 74 بلاکوں کے 529 پنچایتوں میں 9 لاکھ سے زیادہ کی آبادی سیلاب سے بری طرح متاثر ہے۔

تصویر آئی این ایس
تصویر آئی این ایس
user

تنویر

بہار میں یوں تو 10 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں لیکن گوپال گنج میں پشتہ ٹوٹ جانے کے بعد کئی بلاکوں کی حالت خراب ہو گئی ہے۔ برولی بلاک کے شہری علاقوں کے گھروں میں سیلاب کا پانی داخل ہو گیا ہے، اور پناہ کے لیے چھتوں پر گئے لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ آسمان سے موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ گویا کہ نہ نیچے رہنے کا ٹھکانہ ہے اور نہ ہی چھت پر آسانیاں میسر ہیں۔

گوپال گنج کے دیوا پور میں سارن پشتہ ٹوٹ جانے کے سبب درجنوں گاؤں میں سیلاب کا پانی پھیل گیا ہے۔ جس علاقے میں کبھی سیلاب کا پانی نہیں پہنچا، وہاں بھی سیلاب کا منظر دیکھ کر لوگ سہمے جا رہے ہیں۔ گھروں کے کمروں میں سیلاب کا پانی داخل ہو گیا ہے۔ لوگوں نے جب پختہ مکانوں کی چھت پر پناہ لی تو وہاں بھی بارش کی بوندیں انھیں پریشان کر رہی ہیں۔ لوگ کسی مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ کھانے کو کچھ بچا ہے اور نہ ہی پینے کے لیے صاف پانی ہے۔

سیسئی گاؤں باشندہ ارون گپتا بتاتے ہیں کہ گاؤں کے کئی لوگ تو کسی طرح جلدی جلدی پشتہ پر چلے گئے، لیکن کئی لوگ گھروں کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے اس لیے چھتوں پر چلے گئے۔ چھت پر وہ چولہ-برتن لے کر پہنچ تو گئے لیکن وہاں بھی قدرت کی مار پڑ رہی ہے۔ مٹی کے چولہے بارش کے پانی میں بہہ گئے ہیں۔ اب تو کھانے پر بھی آفت ہے۔

دیوپور میں بھی کئی لوگ چھتوں پر آسرا لیے ہوئے ہیں۔ مقامی باشندہ سنگرام سنگھ کا کہنا ہے کہ چھت پر کسی طرح پناہ تو لیے ہوئے ہیں لیکن کھانے-پانی کی قلت ہے۔ رفع حاجت میں بھی مشکلیں پیدا ہو گئی ہیں۔ جمعہ کو کئی لوگ سیلاب کے پانی میں رسی کے سہارے باہر نکل گئے، لیکن جو رہ گئے انھیں دیکھنے والا کوئی نہیں۔

برولی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا تو سب کچھ پوری طرح برباد ہو گیا۔ وہ اب مستقبل کی فکر میں افسردہ ہو ئے جا رہے ہیں۔ برولی کے باشندہ ناگیشور کہتے ہیں کہ "سیلاب کا پانی آج نہیں تو کل اتر جائے گا، لیکن ان کی دکان میں رکھے سبھی سامان سیلاب کے پانی میں برباد ہو گئے اس کا کیا ہوگا۔ میری آگے کی زندگی کیسے کٹے گی۔"

قابل ذکر ہے کہ بہار کی بیشتر ندیوں میں پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ موسلادھار بارش کی وجہ سے سیلاب کا خوفناک منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق 10 اضلاع کے 74 بلاکوں میں 529 پنچایتوں کے 9 لاکھ سے زائد افراد بری طرح سیلاب سے متاثر ہیں۔ حکومت راحت اور بچاؤ کام کر رہی ہے لیکن لوگوں کی شکایت ہے کہ راحت سبھی متاثرین تک نہیں پہنچ رہی ہے۔

next