’پانچ ہتھیار نئی بات نہیں، کانگرس نے بارہا ان تدابیر پر زور دیا لیکن وزیر اعلیٰ نظر انداز کرتے رہے‘

چودھری انیل نے کیجروال حکومت کی 5 ناکامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے راجدھانی دہلی میں کورونا نے تیزی سے پیر پسارے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انیل کمار نے ہفتہ کے روز کہا کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کووڈ-19 وبا کےک خلاف لڑنے کے لئے 5 ہتھیاروں کی بات کر رے ہیں جبکہ انہوں نے گزشتہ تین مہینے کا قیمتی وقت برباد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وزیر اعلیٰ آئسولیشن سے باہر آئے تب تک کورونا وائرس سے قومی راجدھانی میں حالات بے قابو ہو گئے اور مریضوں کی تعداد میں بھاری اضافہ ہو رہا ہے۔

چودھری انیل نے کہا کہ کیجریوال نے وعدہ کیا تھا کہ اسپتالوں میں بیڈس کی تعداد بڑھائی جائے گی، ٹیسٹ کے لئے لیب بڑھیں گی، پلازمہ تھیرپی، سروے اور وسیع پیمانے پر جانچ اور آکسی میٹر (خون میں موجود آکسیجن کی نگرانی کرنے والا ایک چھوٹا آلہ) کی سپلائی بڑھائی جائے گی۔

چودھری انیل نے کیجروال حکومت کی 5 ناکامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے راجدھانی دہلی میں کورونا نے تیزی سے پیر پسارے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی پہلی ناکامی ٹیسٹنگ کی کمی، دوسری کانٹیکٹ ٹریسنگ، تیسری ناقص صاف صفائی، چوتھا کورونا جنگجوؤں کے لئے سہولیات کا فقدان اور پانچواں براڑی، امبیڈکر نگر اور دوارکا میں موجود اندرا گاندھی اسپتال کا استعمال نہیں کرنا شامل ہے۔

چودھری انیل نے کیجریوال پر وقت کی بربادی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے مریضوں کے لئے اسپتالوں میں بیڈ بڑھانے کی بات کرنے سے کیا مراد ہے، جبکہ موجودہ بیڈوں کا نظام ہی درہم برہم ہے۔ نیز اسپتال لگاتار نئے مریضوں کو داخل کرنے سے منع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال اپنے ہی احکامات کو نافذ کرنے میں ناکام ہے اور کووڈ-19 کو جنگی پیمانے پر قابو کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔

انیل کمار نے کہا کہ دہلی کانگریس شروعاتی مراحل میں ہی کہہ رہی تھی کہ دہلی حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور پروٹوکول کے استعمال پر غور کریں۔ لیکن ٹیسٹنگ کی سہولت بڑھانے کے بجائے کیجریوال حکومت نے زیادہ ٹیسٹ کرنے والی لیب کو سزا دینے لگے اور کورونا وائرس کے انفیکن کے ہوسٹ کا پتہ چلانے کے لئے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پرائیویٹ لیب میں ٹیسٹ شروع ہوئے اور ٹیسٹ کی کمی کی وجہ سے حکوت کورونا کے پھیلاؤ کا صحیح جائزہ ہی نہیں لے پائی۔

چودھری انیل نے کہا کہ نجی اسپتال کورونا کے مریضوں سے بہت زیادہ فیس وصول رہے ہیں اور دہلی حکومت اس لوٹ کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب کورونا کے مریضوں کو اسپتالوں میں داخلہ نہیں ملتا تو وہ اسپتالوں کے باہر اسٹریچر پر ہی مر جاتے ہیں، کیجریوال کو ان کے لئے کچھ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال لوگوں کو ہوم آئسولیشن کی صلاح دے رہے ہیں کیونکہ سرکاری اسپتالوں میں ضروری بنیادی ڈھانچہ پوری طرح ناکام ہو گئے ہیں اور یہ وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔

next