بی ایس پی نے کی کسانوں کے ’بھارت بند‘ کی حمایت

مایاوتی نے کہا کہ مرکزی حکومت سے اپیل ہے کہ کسان سماج کے تئیں مناسب ہمدردی اور حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لے اور مناسب صلاح و مشورہ و ان کی رضا مندی سے نیا قانون لائے۔

مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: نئے زرعی قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کے پیر کو منعقد ہونے والے بھارت بند کو بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اپنا حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے اتوار کو ٹوئٹ کے ذریعہ اس ضمن میں اپنی پارٹی کی رضا مندی کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’مرکز کے ذریعہ جلد بازی میں لائے گئے تین زرعی قوانین سے عدم متفق و دکھی ملک کے کسان ان کے واپسی کے مطالبے کے سلسلے میں تقریباً 10 مہینوں سے پوری ملک و خاص کر دہلی کی آس پاس کی ریاستوں میں لگاتار سراپا احتجاج ہیں، انہوں نے کل ’بھارت بند‘ کی اپیل کی ہے، جس کے پرامن انعقاد کی بی ایس پی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے بھی دوبارہ اپیل ہے کہ کسان سماج کے تئیں مناسب ہمدردی اور حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لے اور مناسب صلاح و مشورہ و ان کی رضا مندی سے نیا قانون لائے تاکہ اس مسئلے کا حل نکل سکے۔ اگر کسان خوش و خوشحال ہوگا تو ملک بھی خوش و خوشحال ہوگا۔


قابل ذکر ہے کہ زرعی قوانین کے خلاف کسان گزشتہ 10 مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ 27 ستمبر کو تحریک کے دس مہینے پورے ہونے کے موقع پر مشترکہ کسان مورچہ نے بھارت بند کی اپیل کی ہے اور دیگر تنظیموں سے اس انعقاد میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔ کسان تنظیموں نے قومی سیاسی پارٹیوں، ٹرید یونینوں، کسان یونین، نوجوانوں، ٹیچروں، طالب علموں، خواتین، مزدور یونین سے بھارت بند کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔