کسان تحریک: پانی پت سے ہزاروں کسانوں کا دہلی کوچ

بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر سردار گرنام سنگھ چڑھونی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے تین زرعی قوانین کسان نہیں بلکہ تاجردوست ہیں، اس زرعی قوانین سے صرف سرمایہ داروں کوفائدہ ہوگا۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

پانی پت: ہریانہ کے پانی پت ٹول پلازہ سے جمعرات کو بھارتیہ کسان یونین کے ریاستی صدر سردار گرنام سنگھ چڑھونی کی قیادت میں ہزاروں کسانوں نے دہلی کوچ کیا۔ کسان لیڈر چڑھونی نے دہلی کوچ سے قبل پانی پت ٹول پلازہ پرکسانوں اورمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے تین زرعی قوانین کسان نہیں بلکہ تاجردوست ہیں۔ زرعی قوانین سے صرف سرمایہ داروں کوفائدہ ہوگا۔ ان قوانین کے نافذ ہونے سے پہلے کسان برباد ہوگا اورپھرمزدور، اناج، دال وغیرہ اتنی مہنگی ہوجائے گی کہ ملک کے عوام اناج کے دانے دانے کو محتاج ہوجائیں گے۔

چڑھونی نے کہا کہ زرعی قوانین کے تعلق سے مرکزی حکومت سے کسان تنظیموں کی 11 میٹنگیں ہوچکی ہیں۔ اس کے باوجود بھی مرکزی حکومت یہ نہیں سمجھ پائی کہ تینوں زرعی قوانین کیسے کسانوں کے لئے مفید ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ مرکزی حکومت اب زرعی قوانین کی آڑمیں ملک کی زراعت کو بالواسطہ سرمایہ داروں کو فروخت کرنے پرآمادہ ہے۔ وہیں بی کے یو کے ضلع صدر سدھیرجاکھڑ نے بی جے پی اورجے جے پی پر جم کرنشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی والوں کو گاووں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ادھر پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق بھارتیہ کسان یونین کے بینرتلے چڑھونی کی قیادت میں کسان آج صبح ہی ٹول پلازہ پر جمع ہونے لگے تھے۔ کسانوں کے جماوڑے کے سبب قومی شاہراہ نمبر-44 کی دہلی جانے والی لین پر آمدورفت بندرہی۔ اس درمیان ڈی ایس پی رینک کے افسرموقع پر پہنچے اورمسٹر چڑھونی کی پانی پت کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سشانک ساون سے بات چیت کرائی۔ دونوں کے درمیان 20 منٹ تک بات چیت ہوئی۔ دونوں کے بیچ کس مدے پر گفتگو ہوئی، اس کی وضاحت مسٹر چڑھونی نے نہیں کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔