غازی پور سرحد پر موجود کسانوں کو حکومت پر اعتبار نہیں، دیکھئے ویڈیو

غازی پور بارڈر پر موجود کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے جو زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا ہے وہ انتخابی سیاست کی وجہ سے ہے، جب تک وہ ہر چیز قانونی اور تحریری طور پر نہیں دے گی یہ مظاہرہ جاری رہے گا۔

user

سید خرم رضا

تین زرعی قوانین کے خلاف کسان تحریک کو آج ایک سال مکمل ہو گیا اور ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر غازی پور سرحد پر ایک جشن کا ماحول نظر آیا۔ جس دن وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ حکومت تینوں زرعی قوانین کو واپس لے رہی ہے، اس دن بھی قومی آواز کی ٹیم غازی پور سرحد پر گئی تھی۔ اس دن وہاں موجود لوگوں میں اس اعلان کے بعد جیت کی خوشی بھی تھی اور جوش بھی تھا، لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔ آج کسان تحریک کے ایک سال مکمل ہونے پر غازی پور سرحد پر ایک تہوار کا سا ماحول نظر آیا۔ آج لوگوں میں جوش بھی تھا اور ان کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔

آج سے پہلے غازی پور سرحد پر مظاہرین کی تعداد خاصی کم ہو گئی تھی، لیکن آج جس تعداد میں لوگ شاندار لباس زیب تن کر کے اور ہری سفید ٹوپی لگا کر وہاں پہنچے تھے اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ لوگوں میں جیت کی خوشی بھی ہے اور اپنی تحریک کے ایک سال کامیابی سے مکمل ہونے پر اطمینان بھی ہے۔ وہاں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے قوانین واپس لے کر کوئی احسان ن نہیں کیا ہے بلکہ جو غلط چیز دینے کی کوشش کی تھی اسے واپس لے لیا ہے، لیکن کسانوں کے جو دیگر مطالبات تھے ان پر حکومت نے کوئی غور نہیں کیا ہے۔


تحریک کے سال پورے ہونے پر آئے کسانوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ انتخابی سیاست کی وجہ سے ہے اس لئے جب تک وہ ہر چیز قانونی اور تحریری طور پر نہیں دے گی اس وقت تک یہ مظاہرہ جاری رہے گا۔ ان کا مطالبہ ہے ایم ایس پی پر کوئی تحریری یقین دہانی حکومت دے۔ انہیں ان کسانوں کے خاندان کی بھی فکر ہے جنہوں نے اس تحریک کے دوران اپنی جان قربان کر دیں۔ کسان مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے کابینہ میں بنے رہنے سے بہت سخت ناراض ہیں اور وہ لکھیم پور کھیری کے واقعہ پر انصاف چاہتے ہیں۔ آج غازی پور میں کیسا ماحول تھا اس کو اس ویڈیو میں دیکھئے اور سنئے کسانوں کے خیالات۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 26 Nov 2021, 9:11 PM