راکیش ٹکیت کے آنسوؤں نے پورے احتجاج کو ایک نئی زندگی بخشی

جہاں شاہین باغ کی بوڑھی دادیوں نے احتجاج کا نیا راستہ دکھایا تھا، وہیں راکیش ٹکیت کے آنسوؤں نے کسانوں کے دلوں پر ایسا جادو کیا کہ حکومت نے نہ چاہتے ہوئے بھی زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ لیا

راکیش ٹکیت، تصویر یو این آئی
راکیش ٹکیت، تصویر یو این آئی
user

سید خرم رضا

خوشی، غم، ناراضگی، اختلاف رائے و احتجاج کسی بھی تہذیب کے زندہ ہونے کی علامتیں ہیں اور ان میں سے کسی بھی پہلو کی کمزوری کا مطلب اس تہذیب میں کوئی کمی ہے۔ ہندوستانی تہذیب پرامن ہے اور عدم تشدد کی قائل ہے اور یہ اس کی پہچان بھی ہے۔ حکومت نے سی اے اے اور این آر سی پر ایک فیصلہ لیا اور عوام نے اس فیصلہ کے خلاف اپنی رائے رکھی اور دھیرے دھیرے اس اختلاف رائے نے ایک احتجاجی مظاہرہ کی شکل اختیار کر لی۔ ویسے تو ہندوستان میں خواتین کا ہر جد و جہد میں بہت اہم کردار رہا ہے لیکن پھر بھی خواتین کے بارے میں ہمیشہ یہی کہا گیا کہ وہ گھر کی زینت ہیں اور ان کو گھر کی دلہیز پار نہیں کرنی چاہئے لیکن جب بھی ضرورت پڑی خواتین نے تمام مسائل پر اپنی رائے بھی رکھی اور اپنی موجودگی بھی درج کرائی۔ موجودہ دور میں شاہین باغ کا احتجاج ایک مثال ہے جس کو خواتین نے نہ صرف شروع کیا بلکہ انہوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشددکی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے سماج میں اس احتجاج سے ایک نیا دیا جلایا جس نے آگے چل کر کسانوں کو حکومت کے فیصلوں کے خلاف عد تشدد کا دامن تھامے ہوئے احتجاج کرنے کی ترغیب دی۔

کسانوں کے احتجاج کو آج پورا ایک سال ہو گیا ہے اور ان کو اپنے احتجاج میں کسی حد تک کامیابی بھی مل گئی ہے کیونکہ پہلے وزیر اعظم نے اپنے قوم سے خطاب میں ان تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا جس کے خلاف کسان ایک سال سے اپنے گھر بار چھوڑ کر دہلی کی سرحدوں پر ڈیرا ڈالے بیٹھے ہوئے تھے اور پھر کابینہ نے بھی ان قوانین کی واپسی کے لئے بل کو منظوری دے دی ۔

اس ایک سال کے دوران بڑے واقعات رونما ہوئے، کبھی ان کو کسان ماننے سے ہی انکار کر دیا گیا، کبھی ان کو خالصتانی اور پاکستانی کہا گیا، کبھی انہیں لاٹھیوں اور پانی کی بوچھاروں سے روکنے کی کوشش کی گئی، کبھی ان کی پیش قدمی روکنے کے لئے زمین میں کیلیں گاڑی گئیں، کبھی ان سے بات کی گئی، کبھی انہیں تھکانے کے لئے انہیں نظر انداز کیا گیا، کبھی ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی یعنی اس احتجاج کو ختم کرنے کے لئے حکومت جو بھی سیاسی اقدام لے سکتی تھی وہ لئے گئے لیکن ان کسانوں نے نہ تو عدم تشدد کا دامن چھوڑا اور نہ ہی اپنے مطالبات سے سمجھوتہ کیا۔ اس سب کے بیچ ایک شخص ایسا سامنے آیا جس کا نام اور چہرہ اس احتجاج کی پہچان بن گیا اور وہ شخص تھا کسان رہنما راکیش ٹکیت۔


ایک وقت جب ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت سخت ہو رہی ہے اور وہ اس احتجاج کو ختم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کر سکتی ہے، اس وقت راکیش ٹکیت کو بھی لگا کہ اب اس کے ساتھیوں کے اوپر بہت زیادتی ہو سکتی ہے اور حالات کو دیکھتے ہوئے اس کے آنسو نکل آئے اور وہ رو رو کر اپنی بات کہنے لگا۔ اس کے ان آنسوؤں نے حکومت کو اپنا فیصلہ بدلنے میں مجبور کیا ساتھ میں کسان تحریک کو ایک نئی جان بخشی۔ گویا یہ راکیش ٹکیت کے آنسو نہ ہوں بلکہ وہ سوکھے میں بارش کی بوندیں ہوں جو کسان کی کھیتی اور زمین کو زندگی بخشتی ہیں۔ اس کے بعد اس احتجاج میں ایک جان پڑ گئی اور مغربی اتر پردیش میں دھیرے دھیرے اس احتجاج کے حق میں بہت تیزی سے فضا بدلنے لگی۔

راکیش ٹکیت جو مغربی اتر پردیش کے کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کے بیٹے ہیں اور دہلی پولیس میں تھوڑے وقت کے لئے نوکری کر چکے ہیں وہ بھارتیہ کسان یونین یعنی بی کے یو کے ترجمان ہیں اور ان کے بڑے بھائی نریش ٹکیت یونین کے صدر ہیں۔ راکیش ٹکیت جو انتخابی سیاست میں بھی ہاتھ آزما چکے ہیں وہ اس وقت مغربی اتر پردیش کے سب سے مقبول رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ وہ کیونکہ گھر میں چھوٹے ہیں اس لئے ٹکیت کھاپ کے قائد نہیں ہیں لیکن اس کھاپ کے وہ اہم قایدین میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دہلی پولیس کی نوکری انہوں نے اس لئے چھوڑی تھی کیونکہ ان پر دباؤ تھا کہ وہ اپنے والد کو احتجاج واپس لینے کے لئے مجبور کریں لیکن انہوں نے نوکری چھوڑ کر والد کے ساتھ احتجاج میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔


جہاں شاہین باغ کی بوڑھی دادیوں نے احتجاج کا ایک نیا راستہ دکھایا تھا وہیں راکیش ٹکیت کے آنسوؤں نے کسانوں کے دلوں پر ایسا جادو کیا کہ حکومت نے نہ چاہتے ہوئے بھی زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ حکومت کے لئے کسانوں کے احتجاج اور راکیش ٹکیت کے آنسوؤں سے کہیں زیادہ اہمیت انتخابات کے نتائج ہیں۔ حال میں ضمنی انتخابات کے نتائج نے جہاں حکومت کو مجبور کیا وہیں اتر پردیش اور پنجاب سمیت کئی ریاستوں میں آنے والے اسمبلی انتخابات بھی حکومت کے اس فیصلہ کی وجہ ہیں۔ وزیر اعظم نے ان زرعی قوانین کو واپس لینے کے لئے ضرور پہل کی ہے لیکن ان قوانین کو غلط نہیں کہا ہے اور ساتھ میں اس احتجاج کے دوران جن لوگوں کی جانیں گئیں ان کے لئے ایک لفظ نہیں کہا ساتھ میں ایم ایس پی اور بجلی کے تعلق سے پر اسرار خاموشی اخیار کئے رہے۔ حکومتوں کی ترجیح انتخابی کامیابی نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔