آج بھی ملک میں وہی حالات، جو منوسمرتی نافذ ہونے کے وقت تھے: کانگریس

کرپوری ٹھاکر کی یاد میں معنقد تقریب کے دوران دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ ’’نسل پرستی و مذہبی سیاست کی جڑیں بہار میں بہت گہری تھیں، لیکن کرپوری ٹھاکر انھیں پار کر 2 بار وزیر اعلیٰ بنے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/devendrayadvinc">@devendrayadvinc</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’بھارت جوڑو یاترا میں راہل گاندھی جی نے محسوس کیا کہ ملک کے پاور سیکٹر میں دلت، پچھڑے، قبائلی طبقہ کے لوگ ہی نہیں ہیں۔ قانونی طور سے تو ہمارے ملک میں بابا صاحب کا آئین نافذ ہے، لیکن آج بھی ملک میں حالات وہی ہیں، جو منوسمرتی نافذ ہونے کے وقت تھے۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس او بی سی محکمہ کے چیئرمین ڈاکٹر جئے ہند نے دہلی کانگریس کے او بی سی ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقد ’جَن نایک کرپوری ٹھاکر لیکچر اور جینتی تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج بھی دولت اور بڑے عہدہ انہی کے پاس مرکوز ہیں، جن کا ذکر منوسمرتی میں کیا گیا تھا۔ دلت، پسماندہ اور قبائلی کے پاس معاشی و سماجی طاقت نہیں ہے۔‘‘

تقریب میں کانگریس کے کئی سرکردہ لیڈران نے شرکت کی اور کرپوری ٹھاکر کی خدمات کے ساتھ ساتھ ملک کے موجودہ حالات کا بھی ذکر کیا۔ دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’کرپوری ٹھاکر مجاہد آزادی رہے، پسماندہ طبقات کے رہنما رہے، انہیں بھارت رتن سے بھی نوازا گیا۔ بہار میں ذات پات اور مذہب کی سیاست کی جڑیں بہار میں بہت گہری تھیں، لیکن کرپوری ٹھاکر جی انہیں پار کر 2 بار وزیر اعلیٰ بنے۔‘‘ دیویندر یادو کے مطابق انہوں نے اپنی چھوٹی سی مدت کار میں ملک کی سیاست اور ملک کے سماجی توازن کو برقرار رکھنے کا کام کیا، پسماندہ طبقات اور دلتوں کا پیار حاصل کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کرپوری ٹھاکر کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’تعلیم اور ملازمت میں 26 فیصد ریزرویشن دینے کا کام کیا، سب سے پہلے بہار میں شراب بندی نافذ کرنے کا کام کیا اور 8ویں کلاس تک مفت تعلیم فراہم کرنے کے متعلق بھی کام کیا۔‘‘


کانگریس ایس سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین راجیندر پال گوتم نے کہا کہ ’’ملک میں پسماندہ طبقات کی اتنی بڑی آبادی ہونے کے بعد بھی ہمیں سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ایک طرف جہاں کانگریس نے پسماندہ طبقات کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بنائے تھے، دوسری جانب بی جے پی حکومت نے ہمارے انہیں راستوں کو بند کرنے کا کام کیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت میں سرکاری نوکریوں کو ٹھیکیداری پر دیا جانے لگا اور ریزرویشن کے مواقع ہی ختم کر دیے گئے۔‘‘

اڈیشہ کانگریس کے انچارج اجے کمار للو نے کہا کہ ’’اس ملک میں انگریزوں نے 190 سال حکومت کیے، مغلوں نے 331 سال حکومت کیے کیونکہ ہمارے اندر کی روح بہت آہستہ آہستہ بیدار ہوتی ہے۔ اگر ہم اب بھی بیدار نہیں ہوں گے تو نفرت کا ایک نظریہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، گاؤں گاؤں تک پہنچ رہا ہے، وہ ہمارے مزید حقوق صلب کرنے کا کام کرے گا۔‘‘ اجے کمار للو کے مطابق راہل گاندھی جی سماجی انصاف اور ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے دل میں تحریک کو بیدار کرنا ہوگا، تبھی تبدیلی ہوگی۔


کانگریس ترجمان ڈاکٹر رتن لال نے کہا کہ ’’کرپوری ٹھاکر جی ہمیشہ دلتوں اور قبائلیوں کے لیے کھڑے رہتے تھے۔ آج جب دلتوں اور قبائلیوں پر ظلم ہوتا ہے تو حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔‘‘ 

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔