مان سنگھ قتل معاملے میں گیارہ پولیس اہلکار قصوروار قرار

متھرا کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے اس معاملے میں بھرت پور کے اس وقت کے پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کان سنگھ بھاٹی اور دیگر پولیس اہلکاروں کو تعزیرات ہند کی دفعہ 148, 149, 302 کے تحت قصوروار قرار دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بھرت پور: راجستھان میں بھرت پور کے کسوا ڈیگ میں 35 سال پہلے ہوئے مشہور راجہ مان سنگھ قتل معاملے میں اترپردیش کے متھرا شہر کی ایک عدالت نے آج 11 پولیس اہلکاروں کو قصوروار قرار دیا جبکہ تین لوگوں کو بری کردیا۔

متھرا کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جج سادھنا رانی ٹھاکر نے اس معاملے میں بھرت پور کے اس وقت کے پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کان سنگھ بھاٹی، ایس ایچ او ڈیگ ویریندر سنگھ، سکھرام، آر اے سی کے ہیڈ کانسٹیبل جیوارام، بھنور سنگھ، کانسٹیبل ہری سنگھ، شیر سنگھ، چھتر سنگھ، پدارام، جگموہن، ایس آئی روی شیکھر کو تعزیرات ہند کی دفعہ 148, 149, 302 کے تحت قصوروار قرار دیا ہے۔


عدالت اس معاملے میں سزا بدھ کو سنائے گی۔ عدالت نے بھرت پور پولیس لائن کے ہیڈ کانسٹیبل ہرکیشن، کانسٹیبل گووند پرساد، انسپیکٹر کان سنگھ سربی پر جی ڈی میں بدلاؤ کرنے کا الزام ثابت نہ ہونے کے بعد معاملے سے بری کردیا۔

واضح رہے کہ 20 فروری 1985 کو اسمبلی انتخابات کے دوران ڈیگ قلعہ سے سابقہ شاہی خاندان کے پرچم کو ہٹانے کے سلسلے میں پولیس اور مان سنگھ کے درمیان ہوئے تنازعہ میں پولیس فائرنگ میں مان سنگھ اور ان کے ساتھی سمیرسنگھ اورہر سنگھ کی موت ہوگئی تھی۔ معاملے کے سیاسی طول پکڑنے پر جانچ کا کام مرکزی جانچ بیورو(سی بی آئی) کو سونپنے کے ساتھ معاملے کی سماعت اترپردیش میں اور متھرا کے ضلع اور سیشن کورٹ کے سپرد کی گئی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔