آر ٹی آئی کے تحت ’ایس آئی آر‘ سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر الیکشن کمیشن کا جواب شرمناک: کانگریس

کانگریس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام صاف ستھری ووٹر لسٹ تیار کر غیر جانبدارانہ انتخاب کروانا ہے، لیکن افسوس کہ وہ ’ووٹ چوری‘ میں بی جے پی کا ساتھ دے رہا ہے، ثبوتوں کو ٹھکانے لگا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بہار میں ’ایس آئی آر‘ (ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی) نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ایس آئی آر پورے ملک میں کرانے کا عزم الیکشن کمیشن نے ظاہر کر دیا ہے، لیکن کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے اس کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ اس درمیان آر ٹی آئی کے تحت ’ایس آئی آر‘ سے متعلق پوچھے گئے کچھ سوالات کے الیکشن کمیشن نے ایسے جواب دیے ہیں، جو فکر انگیز ہے۔ کانگریس نے یہ سوالات اور ان کے جواب اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر پیش کیے ہیں، ساتھ ہی الیکشن کمیشن کے جواب کو شرمناک قرار دیا ہے۔

کانگریس نے کے ذریعہ ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’آر ٹی آئی میں الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر سے منسلک کچھ سوالات پوچھے گئے۔ الیکشن کمیشن نے جو جواب دیے ہیں، وہ حیران کرنے والے ہیں۔‘‘ اس کے بعد کانگریس نے آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے سوالات اور الیکشن کمیشن کے جواب پیش کیے ہیں، جو اس طرح ہیں:


سوال: ایس آئی آر کے فیصلہ کو الیکشن کمیشن نے کیسے منظوری دی؟ اس کا طریقۂ کار کیا تھا؟

جواب: اس کی کوئی فائل موجود نہیں ہے۔

سوال: آپ نے ایس آئی آر کے لیے جس ’آزادانہ تشخیص‘ کا حوالہ دیا تھا، وہ دکھا دیجیے۔

جواب: ہمارے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔


سوال: بہار میں 2003 کی ووٹر لسٹ نظرثانی کے گائیڈلائنس کی کاپی دیجیے۔

جواب: وہ تو نہیں ہے، 2025 کا حکم لے لیجیے۔

ان سوالات اور ان کے جواب پیش کرنے کے بعد کانگریس نے لکھا ہے ’’صاف ہے کہ الیکشن کمیشن قصداً جانکاری کو چھپا رہا ہے، جو جمہوریت کے لیے بے حد خطرناک ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن کا کام صاف ستھری ووٹر لسٹ تیار کر غیر جانبدارانہ انتخاب کروانا ہے۔ لیکن افسوس کہ وہ ’ووٹ چوری‘ میں بی جے پی کا ساتھ دے رہا ہے، ثبوتوں کو ٹھکانے لگا رہا ہے، ملک سے سچائی چھپا رہا ہے۔ شرمناک!‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔