ارنب گوسوامی کو 8 دن میں ضمانت، لیکن ایک دیگر صحافی 15 مہینے سے سماعت کا منتظر!

ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کو ضمانت دیے جانے پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ دُشینت دَوے نے بھی فوری سماعت کو لے کر سوال اٹھائے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

روی پرکاش

ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کو خودکشی کے ایک کیس میں فوری ضمانت دیے جانے کو لے کر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ دُشینت دَوے نے بھی ارنب معاملے کی فوری سماعت کیے جانے کو لے کر سوال اٹھائے تھے۔ چھٹی کے دوران ایسی فوری سماعت پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے دَوے نے عدالت کے سکریٹری جنرل کو چٹھی لکھ کر ’سلیکٹیو لسٹنگ‘ یعنی عدالت کے سامنے سماعت کے لیے دیگر معاملوں میں سے اسے ترجیح دینے کا الزام لگایا تھا۔

اب کچھ لوگ جموں و کشمیر کے ایک صحافی کا حوالہ دیتے ہوئے ارنب گوسوامی کی ضمانت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ارنب گوسوامی کو ضمانت دینے کے معاملے میں سیشن کورٹ کے فیصلے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا اور انھیں 8 دنوں میں ضمانت مل گئی، لیکن جموں و کشمیر کے ایک صحافی کے کیس میں 15 مہینے بعد پہلی سماعت ہوئی۔ انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی خبر کے مطابق یہ معاملہ آصف سلطان سے جڑا ہوا ہے جو ’کشمیر نریٹر‘ میگزین کے رپورٹر ہیں۔ فی الحال وہ وادی کی سب سے بڑی جیل میں ہیں جو کہ ان کے گھر سے قریب چار کلو میٹر دور واقع ہے۔

صحافی آصف سلطان اپنی فیملی کے ساتھ سری نگر کے بٹمالو علاقے میں رہتے تھے، لیکن انھیں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ فی الحال وہ دو سال سے زیادہ وقت سے جیل میں بند ہیں۔ انھیں شدت پسندوں سے رشتہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ حالانکہ اہل خانہ اور کئی صحافی تنظیموں نے انھیں بے گناہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایماندارانہ صحافت کی وجہ سے انھیں نشانہ بنایا گیا۔‘‘

واضح رہے کہ ارنب کی طرح ہی متعدد صحافی کئی مہینوں سے جیل میں بند ہیں اور معاملے کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن ارنب کے معاملے میں تیزی دکھائے جانے کے بعد سے دوسرے معاملے اب سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ارنب کو بدھ کے روز سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت ملی تھی جس کے بعد انھیں عدالتی حراست میں آٹھ دن گزارنے پڑے تھے۔ دوسری طرف آصف اس معاملے میں فی الحال قصوروار نہیں ٹھہرائے گئے ہیں، پھر بھی وہ سلاخوں کے پیچھے 800 سے زیادہ دن کاٹ چکے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔