بہار میں نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ بنانا بی جے پی کی مجبوری کیوں ہے؟

جو نتائج سامنے آئے ہیں اس سے صاف تھا کہ اگر بی جے پی اپنے وعدے سے پیچھے ہٹے گی تو ریاست میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننا طے ہے کیونکہ وہاں فاصلہ محض 6 سیٹوں کا ہے

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی اور بہار بی جے پی کے صدر سنجے جیسوال / تصویر یو این آئی
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی اور بہار بی جے پی کے صدر سنجے جیسوال / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: بہار میں اتوار یعنی آج این ڈی اے کے قانون سازوں کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر سابقہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو قائد منتخب کئے جانے کی رسم ادائیگی کی جائے گی۔ آج ہی اتحادی جماعتوں کی حمایت سے متعلق خط سونپے جانے اور حکومت سازی کا دعوی پیش کئے جانے کے بعد گورنر غالباً پیر کے روز حلف برداری کی دعوت دیں گے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں سوال کھڑا کیا گیا ہے کہ بی جے پی، جو این ڈی اے میں سب سے بڑی اتحادی جماعت بن کر ابھری ہے اور جس کے پاس نتیش کمار کی جے ڈی یو کے مقابلہ میں 74 ارکان اسمبلی ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ وہ نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ بنانے پر مجبور ہے؟

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار / یو این آئی
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار / یو این آئی

حالانکہ بی جے پی کے لیڈران کا یہ کہنا ہے کہ یہ سوال اس لحاظ سے بے معنیٰ ہے چونکہ قبل از انتخابات ہی اس موضوع پر تمام طرح کی چہ میگوئیوں پر روک لگاتے ہوئے یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ بغیر کیس اگر مگر کے سیٹوں کی تعداد خواہ کچھ بھی ہو، وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی بنیں گے۔ وہیں نتائج کا اعلان ہونے کے بعد یا دورانِ انتخابات نتیش کمار نے اتنا ہی کہا کہ انہوں نے اس موضوع پر کبھی کچھ نہیں کہا اور جو باتیں آئی ہیں وہ بی جے پی لیڈران کی طرف سے آئی ہیں۔

دراصل، جس طرح کے نتائج منظر عام پر آئے ہیں اس سے صاف ہے کہ اگر بی جے پی اپنے وعدے سے پیچھے ہٹے گی تو راست میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننا طے ہے، چونکہ وہاں اکثرت سے فاصلہ محض 6 سیٹوں کا ہے۔ اور نتائج سے دوسری بات بھی صاف ہو گئی ہے کہ بی جے پی کا چراغ پاسوان کے کندھے اور ان کی پارٹی کا ستعمال کر کے سب سے بڑی پارٹی بننے کا منصوبہ بھلے ہی پورا ہو گیا ہو لیکن اپنا وزیر اعلیٰ بنانا فی الحال ان کے لئے ممکن نہیں ہے۔

خیال رہے کہ نتیش کمار کے امیدواروں کی ہار میں چراغ پاسوان کے ایل جے پی کے امیدواروں کے وٹوں کا کردار فیصلہ کن ہے، جو صرف ان سیٹوں پر مقابلہ کر رہے تھے جہاں جے ڈی یو نے امیدوار اتارے تھے۔ بی جے پی کی امیدواری والی سیٹوں پر چراغ پاسوان نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا اور پورے انتخابات وہ نتیش پر نشانہ لگاتے رہے اور مودی اور بی جے پی کی شان میں کشیدے پڑھتے رہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ چراغ کی پشت پر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کا ہاتھ تھا۔ چاہے وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا بی جے پی کے دیگر لیڈران، تقریر میں جب مخالفین کا نام لینے کی باری آتی تو چراغ کا نام سب بھول جاتے، اسی کی وجہ سے زمین پر تذبذب کی صورت حال پیدا ہوئی۔

اس کے علاوہ جنتا دل یونائیٹڈ کے لیڈران کہتے ہیں کہ بی جے پی نے جس طرح پس پردہ مرکزی ایجنسیوں مثلاً محخمہ انکم ٹیکس یا ای ڈی کی کارروائی میں جے ڈی یو کے لیڈران کو نشانہ بنایا اس سے صاف تھا کہ ایسا چراغ کے نتیش کمار کے خلاف تحریک کو مضبوط کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

اس پسِ منظر میں بی جے پی کے لیڈران دبی زبان میں اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا اپنے بلبوتے 80 سے 90 سیٹیں جیتنے کا ہدف نہ صرف دھرا کا دھرا رہ گیا بلکہ چراغ کے ذریعے نتیش کو 30 سے 35 سیٹوں پر محدود رکھنے کا منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔ جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا ہدف رکھا تھا۔

ایسے حالات میں جب حقیقت کے پردے ہر روز کھل رہے ہیں، بی جے پی لیڈران اعتراف کر رہے ہیں کہ نتیش کو بغیر نا نکر کئے وزیر اعلیٰ بنانا ان کی مجبوری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 15 Nov 2020, 10:48 AM
next