عیدالفطر: تلنگانہ کے علماء و مشائخ نے بھی گھروں پر چاشت یا اشراق کی نماز ادا کرنے کی اپیل کی

مفتی خلیل احمد نے کہاکہ نماز عیدالفطر واجب ہے اور اس کے لئے جماعت شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں دو یا چارذمہ داران نماز عیدالفطر ادا کریں۔ عام لوگ گھروں پر چاشت یا اشراق کی نماز ادا کریں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

حیدرآباد: تلنگانہ کے ممتاز علما،مشائخین اور عمائدین ملت نے موجودہ لاک ڈاون کے حالات کے سبب مسلمانوں سے خواہش کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں عید الفطر کے بجائے انفرادی طورپر نماز چاشت یا اشراق کی نماز اداکریں اور اللہ تبارک وتعالی کے ذکر وشکر کو جاری رکھیں۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کی نگرانی میں اس خصوص میں ایک آن لائن ویبار منعقد کیاگیا۔

اس موقع پر مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ مذہب اسلام فطری اور آسان بھی ہے۔ دین متین میں عبادات فرض کی گئی ہیں،واجبات بھی ہیں ان کی تکمیل میں دشواری ہوتی ہے یا ان کی ادائیگی میں مشکل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ہمارا مذہب متبادل صورت عطا کرتا ہے اور آسانی پیداکرتا ہے۔ مفتی خلیل احمد نے کہا کہ سال گذشتہ کورونا کی وجہ سے حالات انتہائی ابتر تھے۔ سال گذشتہ بھی تمام علما نے متفقہ طورپر عامتہ المسلمین سے اپیل کی تھی اور عیدالفطر کے موقع پر چاشت یا اشراق کی نماز نفل کی نیت سے ادا کی گئی تھی۔ موجودہ حالات میں کورونا کا قہر جاری ہے اور حالات بہتر نہیں ہوئے ہیں۔ کورونا کی لہر میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ہلاکتیں بھی واقع ہورہی ہیں۔ ایسے حالات میں شریعت متبادل راستہ اختیار کرنے کی اجازت فراہم کرتی ہے۔


مفتی خلیل احمد نے کہاکہ نماز عیدالفطر واجب ہے اور اس کے لئے جماعت شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں دو یا چارذمہ داران نماز عیدالفطر اداکریں۔ ایسے میں عید کی نماز ساقط ہونا لازم نہ آئے گا بلکہ تمام مسلمان اپنے اپنے مکانات میں عید الفطر کے موقع پر چاشت اور اشراق کی نماز نفل کی نیت سے اداکریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مجبوری ہے لھذا عامتہ المسلمین عید کی نماز کی نیت سے نہیں بلکہ اشراق یا چاشت کی نماز نفل کی نیت سے ادا کریں۔ مسلمان بارگاہ ایزدی میں انسانیت کی بھلائی کیلئے بھی دعا کریں۔ اس ہلاکت خیز کورونا وبا کے خاتمہ کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعا کی جائے،انسانیت کی بقا اور سب کی بھلائی کے لئے گڑگڑا کردعائیں کی جائیں۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و بانی وناظم المعہد العالی الاسلامی نے کہا کہ کچھ حالات اختیاری ہوتے ہیں اور کچھ حالات مجبوری کے ہوتے ہیں۔ اختیاری حالات میں نماز عید واجب ہوتی ہے۔ فقہا کرام نے کہا ہے کہ مجبوری کی حالت میں چاشت یا اشراق کی نمازنفل کی نیت سے ادا کی جائے اور اللہ کی ذات بابرکت سے اس بات کی امید رکھی جائے کہ اللہ تبارک وتعالی نماز عید کا ثواب عطا کرے گا۔ مولانا نے کہا کہ نماز عید کے لئے موجودہ حالات میں عیدگاہوں اور مساجد کا رخ نہ کیاجائے۔ تمام مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دی جائے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مساجد میں چاریا پانچ مصلی پنچوقتہ نمازیں ادا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں مساجد کے ذمہ داران عید کی نماز کا اہتمام کریں تاکہ مساجد بھی نماز عید سے محروم نہ رہیں۔ البتہ اس تعلق سے عام اعلان نہ کیاجائے۔


مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ رکن مسلم پرسنل لابورڈ و امیرامارت ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش نے کہا کہ موجودہ حالات میں احتیاط کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی بقا بہت بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ مسلمان بہ حیثیت خیر امت خود بھی احتیاط کو ملحوظ رکھیں اور دوسروں میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے تعلق سے شعور بیدار کریں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ریاست میں لاک ڈاون کا نفاذ عمل میں لایاگیا ہے اور عبادت خانوں کو بند رکھنے کے احکام جاری کئے گئے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمان عید کے موقع پر گھروں میں نفل یا شکرانہ کی نماز کا اہتمام کریں۔ البتہ مساجد کو آباد رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ مساجد سے دو چار ذمہ داران نمازوں کا اپنے طورپر اہتمام کریں۔

مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ عید کو سادگی کے ساتھ منایا جائے۔ غریبوں، مسکینوں،محتاجوں،بے سہارا افراد اور کورونا متاثرین کی حسب استطاعت مقدور بھر مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے خاتمہ کے لئے بارگاہ ایزدی میں رقت انگیز دعائیں کی جائیں۔ مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ مسلمان اپنی دعاوں میں فلسطینی بھائیوں اور مسجد اقصی کو یاد رکھیں۔ مولانا غیاث احمد رشادی بانی و منیجنگ ٹرسٹی منبرو محراب فاؤنڈیش نے کہا کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے نتیجہ میں جہا ں دیگر بعض ریاستوں میں وہا ں کے حالات کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے، ہائی کورٹ اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی یہ قانون نافذ کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی دنیوی یا مذہبی تقاریب کا انعقاد نہیں ہو گا اور کسی بھی عنوان سے لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا قانون کے خلاف ہو گا، ملک کے شہری ہو نے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، اور ان قوانین کی پابندی کریں جو حکومت اور ہائی کورٹ کی جانب سے نافذ ہیں، مسجد سے کم آواز میں اذان دی جائے اورساتھ ہی یہ اعلان کر دیا جائے کہ اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرلیں، چونکہ کرونا وائرس ایسی وباء ہے جو بڑی تیزی کے ساتھ ملک میں پھیل رہی ہے،تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اختلاط سے یہ بیماری پھیل رہی ہے کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس بیماری سے متاثرہورہے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں وفات پارہے ہیں اس لئے اسلامی تعلیمات کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اللہ کے فیصلہ پر راضی رہیں، مسجد کے امام و ذمہ داران میں سے دو چار افراد مسجد میں پنج وقتہ نمازیں ادا کر لیں اور نماز عید الفطرکے بجائے اشراق کے بعد سے زوال سے پہلے تک چاشت کی دو یا چار رکعت نماز ادا کر لیں،اور نماز جمعہ کے بجائے نماز ظہر اپنے اپنے گھروں میں ادا کر لیں،جمیع مسلمانوں اور انتظامی کمیٹیوں سے درخواست ہے کہ عید گاہیں یا مساجد میں اجتماعات منعقد نہ کریں، اپنے اپنے گھروں میں انفرادی طور پر نماز چاشت یا نمازشکرانہ ادا کریں، یہ ایک مجبوری ہے اس مجبوری کو عوام سمجھیں شرعاً ایسے مواقع پر عید کی نماز معاف ہے اور نمازجمعہ کے بجائے نماز ظہرپڑھ لینے کی گنجائش ہے۔


وزیرداخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ یہ ایک مشکل وقت ہے۔ کورونا تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ لوگ دیگرریاستوں سے علاج کے لئے تلنگانہ آرہے ہیں۔ مہاراشٹرا،کرناٹک اور دیگر ریاستوں سے تلنگانہ آکر علاج کے لئے یہاں کے اسپتالوں میں شریک ہوئے جس سے وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ مجبوری کی حالت میں لاک ڈاون نافذ کیاگیا۔ اس کی پابندی کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاک ڈاون میں مساجد کو آباد رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح علما نے مشورہ دیا ہے اس پر ہم کو عمل کرتے ہوئے نماز گھر میں اداکرنا چاہئے۔ کورونا ایسا مرض ہے کہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ کیسا کورونا آتا ہے۔ کورونا کو دور کرنے حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس تعلق سے لوگوں میں تشویش ہے۔ علما نے جس طرح مشورہ دیا اس پر ہم کورونا سے نجات دلانے کیلئے عمل کریں۔

کمشنر پولیس حیدرآبا دانجنی کمار نے کہا کہ ہائی کورٹ کی نگاہ بھی ہم پر ہے،تمام سے گذارش ہے کہ گھروں میں ہی نماز اداکریں جو آپ کے خاندان کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مسجد کو ویران کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اسی لئے چار منتخب افراد کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کی جائے۔ یہ ظالم کورونا وائرس آپ کے گھر میں گھسنے کے لئے بے چین ہے۔ یہ خود چل کر آپ کے گھر میں نہیں آسکتالیکن اگرآپ خریداری کیلئے بازار جارہے ہیں اور بازار جارہے ہیں تو یہ اُس کے ساتھ آپ کے گھر میں داخل ہوجائے گا۔ عید کی نماز گھر میں ہی اداکریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔