کورونا کے دور میں عیدالفطر... مفتی محمد مشتاق تجاروی

احوال زمانہ کی رعایت اور وبا کی موجودہ صورت حال کے پیش نظراس عبادت کو اس طرح انجام دیں کہ خود کو بھی کسی نقصان کا اندیشہ نہ رہے اور نہ ہی ہم کسی دوسرے کو نقصان پہچانے کا ذریعہ بنیں۔

کورونا کے دور میں عیدالفطر / Getty Images
کورونا کے دور میں عیدالفطر / Getty Images
user

محمد مشتاق تجاروی

عید الفطر جتنی خاموشی سے اس دفعہ آرہی ہے اتنی چپکے سے تو شاید کبھی نہ آئی ہوگی۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سال گزشتہ بھی ایسے ہی حالات تھے۔ یہ بات بالکل صحیح بھی ہے۔ گزشتہ سال بھی اِن دنوں کورونا کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن تھا اور اس وقت بھی عید کے ایام اسی طرح خاموشی سے گزرے تھے۔ لیکن اُس وقت سب نے یہ سوچا تھا کہ یہ استثنائی صورت حال اس سال ہے، پھر کبھی ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن سب کے اندازے غلط نکلے اور کورونا کی وبا ایک مرتبہ پھر پلٹ آئی اور اس دفعہ اس کا وار پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

کورونا کی وبا کے دوسرے حملے کی وجہ سے آج کل بھی ہمارے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ایسا ہی ماحول ہے جیسا گزشتہ سال تھا۔ بلکہ ہمارے ملک کا حال تو اس مرتبہ زیادہ ہی خراب ہے۔ چار لاکھ نئے کیس روزانہ آرہے ہیں۔چاروں طرف وبا کے مہیب بازو پھیلے ہوئے ہیں اورہر جانب موت کا تانڈو ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سے زندگی کے سارے ہنگامے تھم گئے ہیں۔موت کے مہیب سائے درو دیوار پر بلند ہورہے ہیں اور ان کے خوف سے لوگ اپنے دروازے اور کھڑکیاں بند کرکے گھروں کے نہاں خانوں میں جا چھپے ہیں۔ سڑکیں بے رونق ہیں۔ بازار ویران ہیں۔نہ نئے کپڑوں کا شوق ہے۔ نہ ہی عید کی شاپنگ اور عید ملن کا ولولہ ہے۔بس ایک انجانے خوف کا سایہ ہر چہرے پر جیسےثبت ہو کر رہ گیاہے۔ان حالات میں بہت سی قدریں بدل رہی ہیں۔ساتھ ہی انسانیت اور خدمت خلق کی بہت سی نئی قدریں اور نئی مثالیں وجود میں بھی آرہی ہیں۔موت گلی گلی،کوچےکوچے اور قریہ قریہ بکھری ہوئی ہے۔ بچاؤ کا واحد ذریعہ کنج تنہائی ہے۔ لوگ جس قدر ایک دوسرے سے دور رہیں گے، سماجی فاصلوں کا لحاظ رکھیں گے اتنا ہی اس وبا سے محفوظ رہنے کی امید ہے۔ اس لیے لوگ اس اندیکھی موت سے بچیں۔ اپنے گھروں کے نہاں خانوں میں بند رہیں۔ حیات سلامت رہے گی تو عید کی شاپنگ پھر ہو جائے گی اور عید ملن کے بھی کئی دور آئیں گے۔لیکن اس وقت اپنی جان بچانا ضروری ہے۔


عید کی نماز ایک عبادت ہے۔ یعنی رب العالمین کے دربار میں سجدہ ریزی کرنا ہے۔ عبادت اس مالک کی فرماں برداری کا نام ہے جو زمین و آسمانوں کا مالک ہے اور اس وبا کا بھی مالک ہے۔ اس لیے اس کی عبادت تو انجام دینی ہے۔ لیکن احوال زمانہ کی رعایت اور وبا کی موجودہ صورت حال کے پیش نظراس عبادت کو اس طرح انجام دیں کہ خود کو بھی کسی نقصان کا اندیشہ نہ رہے اور نہ ہی ہم کسی دوسرے کو نقصان پہچانے کا ذریعہ بنیں۔ اس لیے اس عید پر بھی سماجی فاصلوں کی مکمل رعایت کرنی ہے۔ فاصلوں کا مطلب دوریاں نہیں ہوتا۔ فون موجود ہے ایک دوسرے کی خیریت فون پر لیں اور سماجی فاصلہ بر قرار رکھ کر ایک دوسرے کو وبا سے محفوظ رہنے میں مدد کریں۔

کورونا کی وجہ سے جو حالات پیش آرہے ہیں ان میں بہت سارے مسائل بدل گئے ہیں۔شریعت کے مطابق بھی بدلتے ہوئے حالات میں اورخاص طور پر ہنگامی حالات میں بعض مسائل میں خصوصی احکام ہوتے ہیں۔مثلارسول اللہ کے زمانے میں ایک دفعہ عید الاضحی کا موقع تھا۔عرب میں اس سال قحط پڑ گیا تھا اس لیے لوگ بڑی تعداد میں دیہاتوں سے نکل کرسامان خورد و نوش کی فراہمی کے لیے مدینہ آگئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی امداد کے لیےجو طریقے اختیار کیے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ نے قربانی کے گوشت کو ان میں تقسیم کرایا۔اس سے متعلق بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ یعنی سارا قربانی کا گوشت عید کے دنوں میں ہی تقسیم کر دے اس کو بچا کر نہ رکھے۔دوسرے سال صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔(کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ رکھیں) رسول اللہ نے فرمایا اب کھاﺅ،کھلاﺅ اور جمع کرو پچھلی سال تو چوں کہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے اس لیے میں نے چا ہا کہ لوگوں کی مشکلات میں تم ان کی مدد کرو۔ (بخاری 9655)


یہ روایت صحیح بخاری میں اور بھی کئی جگہ آئی ہے اور حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر لوگ مشکلات کا شکار ہوں تو ہم کو ان کی مدد کرنی چاہئے۔جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ جو کام جائز تھا حضور نے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اس سے بھی منع کردیا تھا۔ لاک ڈاﺅن نے اس مشکل دور میں اور عالمی وبا کے اس ماحول میں بھی لوگوں کی مدد کرنا ضروری ہے اس لیے ہم کو اس سال عید کے موقع پر اپنے بھائیوں کی دل کھول کر مدد کرنی چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنی اضافی ضروریات کو محدود کر کے اپنے بھائیوں کی لازمی ضروریات پوری کرنی چاہیے۔ مثلاً:

1۔ عید کے لیے نئے کپڑے بنوانا لازمی نہیں ہے، ہم اس سال اگر نئے کپڑے نہ بنوائیں یا بنوائیں تو صرف ایک جوڑی بنوائیں کئی کئی جوڑی کپڑے نہ بنوائیں بلکہ ان پیسوں سے اپنے ان بھائیوں کی مددکریں جو اس وقت زیادہ مشکلات کا شکار ہیں تو یہ عین تقاضائے انسانیت ہو گا۔

2۔ عید کی دوسری خریداری کو بھی محدود کر کے اپنے بھائیوں کا تعاون کریں۔ عید مرغن غذاوں اورمہنگے پکوانوں کا نام نہیں۔عید رب العالمین کی عبادت کے لیے ہے اس کی فرماں برداری کے لیے۔اس وقت ضرورت مندون کی ضرورت پوری کرنا بھی عبادت ہے اور ان شاء اللہ اس میں عید کی بھی اصل خوشی شامل ہے۔

3۔ اسلام میں پہلے سے صدقةالفطر واجب ہے اس کا ایک بنیاد ی مقصد یہ ہوتا ہے کہ نادارلو گ بھی عید کی خوشی میں پوری طرح شامل ہو سکیں۔ اس لیے صدقةالفطر کی رقم سے اپنے بھائیوں کی مدد کریں اور صدقةالفطر بھی زیادہ سے زیادہ نکالیں۔

4۔ غریب رشتہ داروں کی مدد کرنا دوہرے اجر کا سبب ہے اس لیے اپنے رشتہ داروں کی ضرور مدد کریں خاص طور پر زکوة اپنے غریب رشتہ داروں کو دیں اس میں دو فائدے ہیں ایک تو آپ کو یقین سے معلوم ہوگا کہ یہ مستحق ہیں اس لیے زکوہ کا ادا ہونا یقینی ہوگا دوسرے اس طرح سے صلہ رحمی کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔


عید کی نماز کیسے ادا کی جائے اس سلسلے میں مختلف اداروں نے اپنی رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں۔ان ہدایات پر خاص طور عمل کریں۔عید کی نماز واجب ہے لیکن جب فرض نماز کا اہتما اپنے گھروں پر کر رہے ہیں تو پھر واجب کا اہتمام بھی اپنے گھروں پر کریں۔اپنے پڑوسیوں کو بھی اپنے ساتھ شامل نہ کریں اس لیے کہ ہمیں نہیں معلوم کون شخص اس بیماری کا وائرس لے کر گھوم رہا ہے۔اس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کو ممکنہ طور اس مرض کا شکار سمجھیں اور اس سے فاصلہ بنا کر رہیں۔اس بیماری کا اصل علاج بلکہ تمام وباوں کا اصل علاج بچاو میں ہے۔ تمام دیگر وبائی امراض کی طرح کورونا وائرس کی یہ وبا بھی انسانوں کے کندھوں پر سفر کرتی ہے۔ ایک جلیل القدر صحابی حضرت عمرو بن عاص نے طاعون کے بارے میں کہا تھا کہ یہ آگ کی طرح ہے۔ یعنی وبائی امراض آگ کی طرح ہوتے ہیں۔ جب تک ان کو ایندھن ملتا رہے گا وہ پھیلتے رہیں گے اور جب ان کو چاروں طرف سے اس طرح محدود کر دیا جائے گا کہ وہ دوسرے انسانوں تک اس کی رسائی نہ ہو تو وہ وبا اپنی موت آپ مر جائے گی۔کورونا سے بچاو کے لیے ہم کو بھی یہی کرنا ہے۔ اس مرض کو شکار نہیں ملیں گے تو یہ اپنی موت آپ ہی ختم ہو جائے گا۔

وباؤں کے حالات میں پہلے بھی ہمارے اکابر کا یہ طریقہ رہا ہے کہ اسباب و وسائل اختیار کرکے اپنے رب کے سامنے دست دعا دراز کرنا اور اصل کار ساز اسی کو ماننا۔ہمارا یقین ہے کہ جب وہ چاہے گا تو یہ وبا بھی آنا فانا ختم ہو جائے گی۔اس لیے اس کے دربار میں دامن پھیلائیں اس سے مانگیں اور کے سامنے عاجزی کریں وہ اپنے فضل سے اس وبا کو ختم فرمادے گا۔ان شاء اللہ۔ عید کا دن بھی قبولیت دعا کا دن ہے اس میں بھی اللہ سے دعا مانگیں کہ اللہ تمام پریشان حال لوگوں کی مدد فرمائے۔ اس وبا سے سب کی حفاظت فرمائے۔ اور اس وباکو ختم فرمائے۔ آمین۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔