عیدالاضحیٰ: اس بار کہیں نماز پر پابندی، کہیں کرفیو، کہیں 50 لوگوں کی شرط

ہندوستان کی راجدھانی دہلی اور حیدر آباد، چنئی و کولکاتا جیسے شہروں میں لوگ خوش قسمت ہیں کہ مساجد اور عیدگاہ میں نماز پڑھ سکیں گے، لیکن ان مقامات پر بھی زیادہ بھیڑ لگانے سے اجتناب کرنے کو کہا گیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

عیدالاضحیٰ کا تہوار 21 جولائی کو پورے ہندوستان میں منایا جائے گا، لیکن کورونا وبا کی وجہ سے ایک بار پھر پہلے والی رونق دیکھنے کو نہیں ملے گی۔ اس بار عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہندوستان کی الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ طرح کے کورونا ضابطے نافذ ہیں جس کی وجہ سے کہیں مساجد اور عیدگاہ میں نماز نہیں پڑھی جا سکے گی تو کہیں محدود تعداد میں لوگ نمازِ عید ادا کر پائیں گے۔

ہندوستان کی راجدھانی دہلی اور حیدر آباد، چنئی و کولکاتا جیسے شہروں میں لوگ خوش قسمت ہیں کہ مساجد اور عیدگاہ میں نماز پڑھ سکیں گے، لیکن ان مقامات پر بھی زیادہ بھیڑ لگانے سے اجتناب کرنے کو کہا گیا ہے۔ مہاراشٹر اور بہار جیسی ریاستوں میں تو کووڈ پابندیوں کی وجہ سے مسجدوں میں اجتماعی نماز پڑھنے پر پوری طرح سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں تو ہر چھوٹی بڑی مسجد کے ذمہ داران سے انتظامیہ کے اراکین نمازِ عید کے لیے عوام کو مسجد میں داخل نہ ہونے دینے کی ہدایت دیتے ہوئے نظر آئے۔


ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں باجماعت عید کی نماز پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے، لیکن یوگی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ عید اور قربانی کے موقع پر کسی بھی تقریب میں 50 سے زیادہ لوگ ایک ساتھ جمع نہ ہوں۔ گویا کہ 50 افراد کی جماعت مساجد یا عیدگاہ میں بن سکے گی۔ اتر پردیش میں قربانی کو لے کر بھی ہدایت جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گئو نسل اور اونٹ کے ساتھ ساتھ ممنوعہ جانوروں کی قربانی نہ دی جائے۔ عوامی مقامات پر قربانی دینے سے بھی مسلم طبقہ کو منع کیا گیا ہے۔ گویا کہ قربانی گھروں کے اندر یا نشان زد مقامات پر ہی کی جا سکے گی۔

کیرالہ میں ریاستی حکومت نے عیدالاضحیٰ کے پیش نظر 18 سے 20 جولائی تک کووڈ-19 لاک ڈاؤن میں نرمی دے دی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے اسے ڈانٹ لگائی ہے۔ ظاہر ہے کہ کیرالہ میں عیدالاضحیٰ اور قربانی کا تہوار کورونا ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی منایا جائے گا۔ دوسری طرف آندھرا پردیش میں حکومت نے لوگوں سے بڑے اجلاس سے بچنے کے لیے کہا ہے۔ حکومت نے ہدایت دی ہے کہ عیدگاہ یا کھلے مقامات پر نماز ادا نہ کی جائے۔ ریاستی حکومت نے مسجدوں میں نماز کی اجازت دی ہے، لیکن صرف 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ ہی لوگوں کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ اس دوران سماجی فاصلہ جیسے احتیاطوں پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہوگا۔


آسام حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر 5 اضلاع میں کرفیو کا اعلان کر دیا ہے۔ عید کے دن بھی مسجد میں امام سمیت صرف 5 لوگ ہی نماز پڑھ سکیں گے۔ ریاستی حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ لوگ عیدالاضحیٰ کا تہوار گھر پر ہی رہ کر منائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔