’وزیر تعلیم پردھان تکبر اور نااہلی کی زندہ مثال بن چکے ہیں‘، سی بی ایس سی مارکنگ معاملہ پر جے رام رمیش کا سخت ردعمل

جے رام رمیش نے کہا کہ ’پی ایم کبھی بھی خود کو یا اپنے ساتھیوں کو اخلاقیات اور پاکیزگی کے کسی معیار پر پرکھنے کے لیے نہیں جانے گئے۔ لیکن وزیر پردھان کو اپنا راج دھرم نبھاتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سے منسلک تنازعہ کو لے کر کانگریس نے مرکزی حکومت کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ وزارت تعلیم کی لاپرواہی اور بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں طلبہ کو ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو راج دھرم نبھاتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سسٹم میں سائبر سیکورٹی سے متعلق خامیوں سے انکار کرنے کے بعد، اب سی بی ایس ای نے بالآخر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ سسٹم کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا تھا۔ لیکن اپنے کنٹریکٹر کوئیمپٹ کے خلاف وہ کیا کارروائی کرنے جا رہا ہے؟ کچھ خاص نہیں۔‘‘

جے رام رمیش نے روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی 2 تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارت تعلیم میں کوئیمپٹ سے فائدہ اٹھانے والوں کو پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ کوئیمپٹ اس کام کے لیے نااہل ثابت ہوگی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اگست 2025 کے اپنے آر ایف پی میں سی بی ایس ای نے ان وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا اختیار اپنے پاس محفوظ رکھا تھا، جو کام کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے میں ناکام رہتے۔ لیکن ستمبر میں سی بی ایس ای نے ایک کوریجنڈم جاری کر کے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا اپنا ہی اختیار ختم کر دیا۔‘‘


کانگریس لیڈر جے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’یہ کوئیمپٹ کو بچانے کی ایک عقل سے بالاتر اور حکومت کی سرپرستی میں کی جانے والی کوشش دکھائی دیتی ہے، جو کوئیمپٹ کو باضابطہ طور پر کنٹریکٹ ملنے سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’آخر ملک کب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو برداشت کرے گا، جن کی وزارت نے ٹینڈر کے عمل میں ایسی ناقابل تصور بے ضابطگیوں کو نہ صرف ہونے دیا بلکہ انہیں تحفظ بھی فراہم کیا، جس کی قیمت لاکھوں طلبہ کو اپنا ذہنی سکون کھو کر چکانی پڑی؟ وزیر پردھان تکبر اور نااہلی کی جیتی جاگتی مثال بن چکے ہیں، جو ملک کے تئیں اپنی ذمہ داری سے اوپر اپنے سیاسی ایجنڈے کو رکھنے پر اڑے ہوئے ہیں۔‘‘

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے پوسٹ کے آخر میں لکھا کہ ’’وزیر اعظم کبھی بھی خود کو یا اپنے ساتھیوں کو اخلاقیات اور پاکیزگی کے کسی معیار پر پرکھنے کے لیے نہیں جانے گئے ہیں۔ لیکن وزیر پردھان کو اپنا راج دھرم نبھاتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘‘