’غلطی بورڈ کی، سزا بچوں کو اور کمائی حکومت کی‘، سی بی ایس ای امتحان تنازعہ پر راہل گاندھی کا تلخ تبصرہ

راہل گاندھی نے کہا کہ جب تعلیم کو خدمت کی جگہ کاروبار بنا دیا جائے تب غلطی درست نہیں کی جاتی بلکہ بڑھائی جاتی ہے اور اس کی قیمت ہمارے بچے ادا کر رہے ہیں، اپنے وقت سے، اپنے اعتماد اور اپنے مستقبل سے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیر کے روز سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) امتحان کے نتائج کے بعد نافذ کئے گئے فیس نظام پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء سے اسکین کاپی، ری-ٹوٹلنگ اور ری-ایویلیوایشن (دوبارہ جانچ) کے لیے فیس وصول کی جا رہی ہے جبکہ کئی معاملات میں غلطیاں خود بورڈ کی ہوتی ہیں۔

کانگریس کے سینئررہنما راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے 12ویں کلاس کے کچھ طلباء سے بات کی جنہوں نے اپنے امتحان کے نمبروں سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔ گفتگو کے دوران راہل گاندھی نے طلباء سے دوبارہ جانچ کے دوران مبینہ طور پر پائی گئی خامیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس بات چیت کی ویڈیو کانگریس رہنما نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے طلباء کی حمایت کی۔


ویڈیو میں طلباء نے راہل گاندھی کو ری-ایویلیویشن کے عمل کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس میں پرچے کی فیس کے بارے میں بھی بتایا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو میں راہل گاندھی نے سی بی ایس ای پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے ری-ایویلیوایشن  فیس پر بھی سوال کھڑے کئے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ’’جیب کتروں سے ہوشیار- آج وہ سی بی ایس ای کے اندر بیٹھے ہیں۔ سی بی ایس ای کی غلطی سے نمبر غلط آئے تو آپ کو کیا ملتا ہے؟ ایک بل: ڈیجیٹل اسکین کاپی: روپئے 100 فی موضوع، ری-ٹوٹلنگ: روپئے 100 فی پیر، ری-ایویلیوایشن: روپئے 25 فی سوال۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ غلطی سی بی ایس ای کی ہوتی ہے اور سزا بچوں کو ملتی ہے، وہیں کمائی حکومت کی ہوتی ہے۔ جب تعلیم کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا دیا جائے تب غلطی درست نہیں کی جاتی بلکہ بڑھائی  جاتی ہے اور اس کی سب سے بڑی قیمت ہمارے بچے ادا کررہے ہیں۔اپنے وقت سے، اپنے اعتماد اور اپنے مستقبل سے۔ اس بات چیت میں 12 ویں کے طالب علم ویدانت سریواستو بھی شامل تھے جن کی ’ایکس‘ پوسٹ تب وائرل ہوگئی جب انہیں سی بی ایس ای کی آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سسٹم کے تحت غلط جوابی کاپی ملی۔  اس دوران ویدانت نے راہل گاندھی سے انہیں ملک دشمن اور ڈیپ اسٹیٹ ایجنٹ یا پاکستانی کہے جانے کے بارے میں بات کی۔ راہل گاندھی انہیں مذاق میں ’سورس ایجنٹ‘ کہتے ہیں۔


راہل گاندھی نے ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’’میرے ساتھی ملک دشمن سوروس ایجنٹس کے ساتھ ایک دلچسپ بات چیت۔ ویدانت اور اس کے دوست باصلاحیت، بہادر نوجوان ہندوستانی ہیں جنہوں نے سی بی ایس ای اور مودی حکومت سے سادہ سوالات پوچھے لیکن انہیں جوابات کے بجائے توہین ملی۔ وہ ایک روشن اور محفوظ مستقبل کے مستحق ہیں، ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ انہیں وہ ملے۔‘‘ بات چیت کے دوران طالب علم ویدانت نے دعویٰ کیا کہ نتائج کے حوالے سے سوالات اٹھانے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر ملک دشمن اور سورس ایجنٹ تک کہا گیا۔ طلباء کے مطابق انہوں نے کاپیوں کی دوبارہ جانچ کے عمل کے تحت اپنی جوابی کاپیوں کی فوٹو کاپی مانگی تھی جس میں انہیں کئی گڑبڑی نظر آئیں۔

ویدانت نے کہا کہ جوابی کاپی کا سرورق ان کا تھا اور وہ اپنی تحریر پہچان سکتے تھے لیکن اندر کے کچھ صفحات میں لکھا مواد ان کا نہیں لگ رہا تھا۔ طلباء نے الزام لگایا کہ کچھ جوابات کی جانچ نہیں کی گئی اور کئی درست جوابات کو توقع سے کم نمبر دیے گئے۔ طلباء نے بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے پر کئی بار سی بی ایس ای اور متعلقہ افسران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں واضح جواب نہیں ملا۔ ویدانت نے کہا کہ جب انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تو انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور ان پر نظام کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا گیا۔