نیٹ پیپر لیک معاملہ: این ٹی اے نے وزارت صحت کو ٹھہرایا ذمہ دار، سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل
ہمہ جہت ناکامی کے درمیان مرکزی حکومت 21 جون کو ہونے والے ری-ٹیسٹ کو ’فل پروف‘ بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

ہندوستان کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان ’نیٹ-یو جی 2026‘ کے پرچہ لیک معاملہ پر ملک کی سب سے بڑی عدالت میں سماعت چل رہی ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی بنچ آج ان عرضیوں پر اہم سماعت کر رہی ہے، جنہوں نے پورے ملک کے امتحانی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ این ٹی اے نے گزشتہ تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘‘
اب 29 مئی کی دوپہر تقریباً ایک بجے این ٹی اے نے اپنا حلف نامہ عدالت میں پیش کیا۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق حلف نامہ کی ایک اہم سطر میں این ٹی اے نے خود کو بچاتے ہوئے ’پین اینڈ پیپر‘ (او ایم آر) موڈ کی ذمہ داری وزارت صحت اور نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) پر ڈال دی ہے۔ این ٹی اے نے سپریم کورٹ سے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’نیٹ (یو جی) 2026 صرف اس لیے ’پین اینڈ پیپر‘ موڈ میں کرایا گیا کیونکہ وزارت صحت اور این ایم سی کے منصوبے اور ضوابط یہی کہتے ہیں۔ ہمارے باقی تمام بڑے امتحانات پہلے ہی کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی) موڈ میں کرائے جا رہے ہیں۔‘‘
این ٹی اے نے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں بڑے اصلاحی اقدامات کا دعویٰ بھی کیا۔ اپنے حلف نامے میں این ٹی اے نے واضح کیا کہ اسرو کے سابق چیئرمین ڈاکٹر کے. رادھا کرشنن کمیٹی (ایچ ایل سی ای) کی سفارشات پر مقررہ مدت کے اندر مسلسل عمل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ لڑائی اب صرف چند نمبروں کی نہیں بلکہ ہندوستان کے 2 کروڑ 27 لاکھ سے زائد طلبا اور ان کے والدین کے اعتماد کی بھی ہے، جو رات دن جاگ کر ان کے مستقبل کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ میڈیکل ایسوسی ایشنز (ایف اے آئی ایم اے اور یو ڈی ایف) نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر این ٹی اے کو مکمل طور پر تحلیل کرنے یا اس کے اعلیٰ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ طلبا کا الزام ہے کہ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسے خفیہ پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے ’گیس پیپرز‘ امتحان کے اصل سوالیہ پرچے سے 100 سے زیادہ سوالات میں حرف بہ حرف میل کھا رہے تھے۔
اس ہمہ جہت ناکامی کے درمیان مرکزی حکومت 21 جون کو ہونے والے ری-ٹیسٹ کو ’فل پروف‘ بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ سوالیہ پرچوں کی حفاظت کے لیے پہلی بار شہری انتظامیہ کے بجائے ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) کے طیاروں کے استعمال اور امتحانی مراکز پر نیم فوجی دستوں (سی آر پی ایف، سی آئی ایس ایف) کی تعیناتی جیسے غیر معمولی حفاظتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ سی بی آئی اب تک اس معاملے میں دہلی، جے پور اور ناسک سمیت کئی شہروں سے 13 ملزمین کو گرفتار کر چکی ہے۔ آج کورٹ روم نمبر-1 سے آنے والی ہر ہدایت اس بات کا تعین کرے گی کہ ملک میں امتحانات کی شفافیت باقی رہے گی یا پھر وینڈرز اور لیک مافیا کا راج قائم ہوگا۔
