لاک ڈاؤن ہٹنے کے بعد بھی بڑھ رہا بحران، اکتوبر میں بے روزگاری مزید بڑھی!

سی ایم آئی ای کے مطابق زرعی سیکٹر میں اصلاح کے حکومت کے تمام دعووں کے باوجود اکتوبر میں دیہی علاقوں میں ایک فیصد اضافہ کے ساتھ بے رزگاری شرح 6.90 فیصد درج کی گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

ہندوستان میں کورونا بحران کے سبب نافذ لاک ڈاؤن میں چھوٹ کے باوجود معیشت کا بحران گہراتا جا رہا ہے، جس سے بے روزگاری گھنٹے کی جگہ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکونومی (سی ایم آئی ای) کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں بے روزگاری شرح ستمبر کے مقابلے اکتوبر مہینے میں بڑھ کر 6.98 فیصد پہنچ گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں ملک کی بے روزگاری شرح 6.67 فیصد تھی، جس میں اکتوبر میں 0.31 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

سی ایم آئی ای کی رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں کی بات کریں تو زرعی سیکٹر میں اصلاح کے حکومت کے تمام دعووں کے باوجود بھی یہاں اکتوبر میں بے روزگاری شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ دیہی علاقوں میں ایک فیصد اضافہ کے ساتھ بے روزگاری شرح 6.90 فیصد درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ ان اعداد و شمار کے مطابق اس دوران شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہوئی ہے۔ اکتوبر میں ملک کے شہری علاقوں میں بے روزگاری شرح 7.15 فیصد درج کی گئی جب کہ ستمبر میں 8٫45 فیصد تھی۔

دراصل ہندوستان میں کورونا بحران کا ملک کی معیشت پر بڑا اثر دیکھنے کو ملا ہے۔ خصوصاً مارچ سے مئی کے دوران نافذ سخت لاک ڈاؤن کے سبب ہندوستانی معیشت ایک طرح سے پٹری سے ہی لڑکھڑا گئی ہے۔ حالانکہ اس کے بعد سخت لاک ڈاؤن میں گزشتہ کچھ مہینوں سے ڈھیل ضرور دی گئی، لیکن اس کے باوجود معاشی حالت نہیں سنبھل پائی ہے۔ اس وجہ سے بڑے پیمانے پر کام دھندے بند ہو گئے ہیں، جس سے اتنی ہی زیادہ تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔

معیشت کو لگے جھٹکے کا اثر یہ ہوا کہ جون میں ختم سہ ماہی میں ہندوستان کی معاشی ترقی منفی میں چلی گئی تھی۔ سخت لاک ڈاؤن کے بعد جون سہ ماہی میں منفی 23.9 فیصد معاشی ترقی کی رپورٹ کے بعد ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، موڈیز سمیت تمام عالمی معاشی ریٹنگ اداروں نے اس پورے مالی سال میں ملک کی معاشی شرح ترقی کے اندازے کو گھٹا دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next