دہلی میں محسوس کئے گئے زلزلے کے جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر 2.8 کی شدت ریکارڈ

زلزلہ کے ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ ہلکے جھٹکوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ گنجان آبادی والی راجدھانی کو درپیش زلزلے کے خطرات کی یاد دلاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 نئی دہلی میں پیر کی صبح ایکٹر اسکیل پر 2.8 کی شدت کا ہلکا زلزلہ آیا، جس سے قومی راجدھانی کے متعدد علاقوں میں کچھ دیر کے لیے جھٹکے محسوس ہوئے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) کے مطابق زلزلہ صبح تقریباً 8:44 بجے آیا۔ جھٹکے محسوس ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نکل کر میدان میں جمع ہو گئے۔ زلزلے کا مرکز شمالی دہلی میں 5 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔

اس زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ حالانکہ اس واقعے نے ایک بار پھر دہلی کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے زلزلے کی سرگرمیوں کے تئیں اس کی حساسیت کو اجاگر کیا۔ اس دوران این سی ایس نے ایک سرکاری بیان میں زلزلہ کی واردات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کی شدت 2.8، تاریخ 19 جنوری 2026 وقت 08:44 بجے صبح،عرض بلد 28.86 این، طول البلد 77.06 ای، گہرائی 5 کلومیٹر، مقام شمالی دہلی۔


دہلی اور آس پاس کا قومی راجدھانی علاقہ (این سی آر) کئی فعال فالٹ لائنوں کے قریب واقع ہے جو ارضیاتی دراڑیں ہیں جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں اور کھسکتی ہیں۔ یہ فالٹ لائنیں اس خطے کو بار بار کم سے درمیانی شدت کے زلزلوں کے لیے حساس بناتی ہیں۔ ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ ہلکے جھٹکوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ گنجان آباد ی والی راجدھانی کو درپیش زلزلے کے خطرات کی یاد دلاتے ہیں۔

ارضیاتی حالات اس خطرے کو مزید بڑھادیتے ہیں، خاص طور پر جمنا کے سیلابی میدانوں کے کنارے دہلی کے مشرقی حصوں میں۔ ان علاقوں کی خصوصیت نرم، ریتیلی اور سلٹی مٹی کی موٹی تہہ ہیں جس میں زمینی پانی اکثر سطح کے قریب ہوتا ہے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان کے زلزلہ سے متعلق زوننگ سسٹم کو 2025 میں اپ ڈیٹ کیا گیا جس سے زلزلے کے امکان کی بنیاد پردرجہ بندی کو 6 زونوں تک بڑھایا گیا۔


ماہرین زلزلہ کے مطابق ہماری زمین کی سطح بنیادی طور پر 7 بڑی اور کئی چھوٹی ٹیکٹونک پلیٹوں پر مشتمل ہے۔ یہ پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں اور اکثر ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ اس ٹکر کے نتیجے میں پلیٹوں کے کونے جھک سکتے ہیں اور شدید دباؤ کی وجہ سے وہ ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں نیچے سے نکلی توانائی باہر کی طرف پھیلنے کا راستہ تلاش کرتی ہے اور یہی توانائی جب زمین کے اندر سے باہر آتی ہے تو زلزلہ آتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔