کورونا بحران: اسلامیہ اسپتال کو عارضی طور پر 'کووڈ اسپتال' بنانے کا فیصلہ
مغربی بنگال حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کولکاتا واقع اسلامیہ اسپتال میں 300 بستروں کا انتظام ہوگا اور 30 ڈاکٹر بھی تعینات کیے جائیں گے۔ اسپتال کا پارک سرکس یونٹ حسب معمول کام کرے گا۔
کولکاتا شہر کے مرکزی علاقہ میں واقع زیر تعمیر اسلامیہ اسپتال کومغربی بنگال حکومت نےعارضی طور پر اپنے کنٹرول میں لے کر کورونا اسپتال میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے خود ہی اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومت اسلامیہ اسپتال کو ہاتھ میں لے کر مکمل طور پر کووڈ اسپتال میں منتقل کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ زیر تعمیر دس منزلہ عمارت سنٹرل ایونیو میں واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بغیر تنخواہ چھٹی پر بھیجے جانے سے ائیر انڈیا ملازمین ناراض
اسلامیہ اسپتال کے کارگزار جنرل سکریٹری ایس. حیدر نے کہا کہ منیجنگ کمیٹی نے اسلامیہ اسپتال کو حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر عمارت کی تعمیر مکمل کرے گی اور اس کو چند مہینے تک کووڈ اسپتال کے لئے استعمال کرے گی۔ یہ عمارت گزشتہ تین سالوں سے زیر تعمیر ہے۔ دس منزل تک ڈھلائی ہوچکی ہے اور کئی فلور بھی مکمل ہیں۔
حکومت کے ذرائع کے مطابق یہاں 300 بیڈ اور 30 ڈاکٹر تعینات کیے جائیں گے۔ جب کہ اسپتال کا پارک سرکس یونٹ حسب معمول کام کرتا رہے گا۔ ذرائع کے مطابق اگلے دو مہینوں میں تعمیرکا کام مکمل ہوجائے گا اور یہاں آئی سی یو فیکلٹی بھی بنائی جائے گی۔
راجیہ سبھا کے رکن محمد ندیم الحق جنہوں نے گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دفتر سے رابطہ کرکے یہ تجویز پیش کی تھی کا میڈیا میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپتال کی دس منزل عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے قریب ہے۔ کچھ فلور باقی ہیں مگر بیشتر حصہ مکمل ہوچکا ہے۔ اور اس مہینے کے آخیر تک اسپتال کی تعمیر کا کام مکمل ہوجائے گا۔
اسپتال کے منیجنگ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری ایس حیدر نے کہا کہ حکومت مغربی بنگال کے ہاتھ میں چلے جانے کی وجہ سے جلد سے جلد تعمیری کام مکمل ہوجائے گا اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کے بدلے حکومت چند مہینے کووڈ اسپتال کے طور پر استعمال کرے گی اور بعد میں ہمارے ہاتھ میں آجائے گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی شمالی دیناج پور کے اسلام پور کی عمارت کو کووڈ اسپتال کے طور پر دے دیا گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 20 Jul 2020, 6:46 PM