بغیر تنخواہ چھٹی پر بھیجے جانے سے ائیر انڈیا ملازمین ناراض

ایوی ایشن انڈسٹر ی ایمپلائز گلڈ اور آل انڈیا سروس انجینئرس ایسوسی ایشن نے انتظامیہ کی طرف سے جاری نوٹس کو ’غیرقانونی اور غیرآئینی‘ قرار دیا ہے۔

ایئر انڈیا، تصویر سوشل میڈیا
ایئر انڈیا، تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: طیارہ خدمات فراہم کرنے والی سرکاری کمپنی ایئر انڈیا کے ملازمین کی تنظموں نے آج ایئر لائن کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائرکٹر (سی ایم ڈی) کو خط لکھ کر کچھ ملازمین کو بغیر تنخواہ کے جبراً چھٹی پر بھیجنے اور پائلٹوں اور کیبن کرو کی سیلری- الاؤنس میں کٹوتی کے انتظامیہ کے منصوبہ کی مخالفت کی ہے۔

ایئر انڈیا 14جولائی کو جاری اسٹاف نوٹس کے ذریعہ ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیجنے کا منصوبہ پھر سے لیکر آئی ہے۔ پہلے کی طرح بغیر تنخواہ رضاکارانہ چھٹی کے ساتھ ہی اس میں بغیر تنخؤاہ جبراً چھٹی کا التزام کیا گیا ہے جس کی ملازمین کی تنظیمیں مخالفت کررہی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ملازم بغیر تنخواہ کے چھ مہینہ سے دو برس تک چھٹی پر جاسکتے ہیں جس میں پانچ برس تک توسیع کی جاسکتی ہے۔ انتظامیہ نشان زد ملازمین کے لئے اس اسکیم کو لازمی بھی کرسکتی ہے۔ ان ملازمین کی شناخت کے لئے ان کے پچھلے ٹریک ریکارڈ اور فٹنس کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔

ایوی ایشن انڈسٹر ی ایمپلائز گلڈ اور آل انڈیا سروس انجینئرس ایسوسی ایشن کے اس سلسلہ میں انتظامیہ کی طرف سے جاری نوٹس کو ’غیرقانونی اور غیرآئینی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے یکطرفہ فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں ملازمین کی تنظیموں سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ انڈین کمرشیل پائلٹس ایسوسی ایشن نے اسے ’تغلقی فرمان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری ہوابازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی 16جولائی کی پریس بات چیت میں آپ نے (ایئر انڈیا کے سی ایم ڈی راجیو بنسل) نے کہا تھا کہ پائلٹوں کے ساتھ ہم بات چیت کر رہے ہیں، جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ یہ بات چیت نہیں وزارت کا تغلقی فرمان ہے۔

پائلٹوں کی تنظیم کی طرف سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ 4جون، 5جون، 8جولائی اور 14جولائی کو انتظامیہ نے اس کے نمائندوں کو بات چیت کی دعوت ضرور دی تھی لیکن نہ تو میٹنگ کا کوئی تحریری ایجنڈہ بتایا گیا تھا اور نہ ہی میٹنگ کے دوران انتظامیہ کی تجویزوں کی تحریری کاپی دستیاب کرائی گئی تھی۔ اس نے کہا کہ پائلٹوں کو ملنے والے الاؤنس ان کی کل تنخواہ کا 70فیصد حصہ ہے جن کی ادائیگی اپریل کے بعد سے نہیں کی گئی ہے۔ تنخواہ کی ادائیگی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی زبانی تجویز ’اسے قبول نہیں ’ اور یہ ’مساوات کے بنیادی حق کے خلاف‘ ہے۔ دیگر دو تنظیموں نے مشترکہ خط میں کہا ہے کہ انتظامیہ کا یہ قدم غیرقانونی ہے اور ہم اسے فوری طور پر واپس لینے کی مانگ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی جگہ صرف رضاکارانہ بنیاد پر بغیر تنخواہ کے چھٹی کی اسکیم لائی جائے نہیں تو ملازمین کی طرف سے تنظیمیں مناسب قانونی کارروائی پر غور کریں گی جس کے لئے انتظامیہ پوری طرح ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ملازمین کو بغیر تنخواہ جبراً چھٹی پر بھیجنے کا انتظامیہ کو اختیار دیتا ہو۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جبراً تنخواہ روکنا ایک طرح سے ملازمین کو کام کے حق سے محروم کرنا ہوگا جو ان کے وجود کو مٹانے یا زندگی کے حق سے محروم کرنے کے برابر ہے۔

Published: 20 Jul 2020, 4:11 PM
next