پی ایم نے اقتدار میں آنے کے لیے تیار کی نقلی شبیہ، اب یہی ہندوستان کی سب سے بڑی کمزوری: راہل گاندھی

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ چین اپنی حالت مضبوط کر رہا ہے۔ چاہے یہ گلوان ہو یا ڈیمچوک ہو یا پھر پینگونگ جھیل ہو۔ ان کا ارادہ واضح ہے، مضبوط حالت میں جانا۔ وہ ہمارے ہائیوے کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔

user

قومی آوازبیورو

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہندوستانی عوام کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انھوں نے براہ راست پی ایم نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پی ایم نے اقتدار میں آنے کے لیے ایک نقلی مضبوط شبیہ تیار کی۔ یہ ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ یہ اب ہندوستان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔"

راہل گاندھی نے ہند-چین سرحد تنازعہ کے تعلق سے کہا کہ "یہ صرف ایک سرحدی تنازعہ نہیں ہے۔ میری فکر یہ ہے کہ چینی آج ہمارے علاقے میں بیٹھے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ چین کی سفارتی اسٹریٹجی کیا ہے؟ چین بغیر سفارتی سوچ کے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ چین کے دماغ میں دنیا کا ایک نقشہ کھنچا ہوا ہے اور وہ اپنے حساب سے اسے تیار کر رہا ہے۔ جو وہ کر رہا ہے، وہ اس کا پیمانہ ہے۔ اسی کے تحت گوادر ہے، اسی میں بیلٹ اینڈ روڈ آتا ہے۔ یہ دراصل اس دنیا کی از سر نو تعمیر ہے۔ اس لیے جب آپ چینیوں کے بارے میں سوچیں تو آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ کس سطح پر سوچتے ہیں۔"


کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مزید کہا کہ "اب آپ سفارتی سطح پر دیکھیں۔ چین اپنی حالت مضبوط کر رہا ہے۔ چاہے یہ گلوان ہو یا ڈیمچوک ہو یا پھر پینگونگ جھیل ہو، ان کا ارادہ واضح ہے، مضبوط حالت میں جانا۔ ہمارے ہائیوے سے وہ پریشان ہیں۔ وہ ہمارے ہائیوے کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کے ساتھ کشمیر میں کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں یہ معمولی سرحد تنازعہ نہیں ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم پر دباؤ بنانے کے لیے یہ منصوبہ بند سرحد تنازعہ ہے۔ اور وہ ایک خاص طریقے سے دباؤ ڈالنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ جو کر رہے ہیں، وہ ان کی شبیہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ نریندر مودی کے لیے اثردار سیاستداں رہنا مجبوری ہے۔ ایک سیاستداں کے طور پر بنے رہنے کے لیے انھیں اپنی 56 انچ کی شبیہ کی حفاظت کرنی ہوگی۔ اور یہی وہ اصل سوچ ہے، جس پر چین حملہ کر رہا ہے۔"

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ "چین بنیادی طور پر نریندر مودی سے کہہ رہا ہے کہ اگر وہ نہیں کریں گے جو چین چاہتا ہے تو وہ نریندر مودی کی مضبوط لیڈر والی شبیہ کو منہدم کر دیں گے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ نریندر مودی کیا رد عمل ظاہر کریں گے؟ کیا وہ ان کا سامنا کریں گے؟ کیا وہ چیلنج قبول کریں گے؟ اور کہیں گے کہ بالکل نہیں! میں ہندوستان کا وزیر اعظم ہوں، میں اپنی شبیہ کی فکر نہیں کرتا۔ میں تمھارا مقابلہ کروں گا۔ یا وہ ان کے سامنے اسلحہ ڈال دیں گے؟"


کانگریس کے سابق صدر نے مزید کہا کہ "یہ جو فکر ہے کہ پی ایم دباؤ میں آ گئے ہیں، اس لیے ہے کیونکہ آج چینی ہمارے علاقے میں بیٹھے ہیں اور پی ایم کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ وہ نہیں بیٹھے۔ اس سے مجھے لگتا ہے کہ وہ (پی ایم) اپنی شبیہ کو لے کر فکرمند ہیں اور اپنی شبیہ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ چینیوں کو یہ سمجھنے کا موقع دیتے ہیں کہ شبیہ کی فکر میں انھیں چنگل میں لیا جا سکتا ہے تو ہندوستانی وزیر اعظم ہندوستان کے لیے کسی کام کے نہیں رہیں گے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 20 Jul 2020, 2:11 PM