گمراہ کن پروپیگنڈا کبھی بھی ڈپلومیسی اور مضبوط قیادت کا متبادل نہیں ہوسکتا:منموہن سنگھ

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ آج ہم تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، ہماری سرکار کا فیصلہ اور اس کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم کا جائزہ مستقبل کی نسلیں طے کریں گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آج پہلی مرتبہ گلوان وادی میں شہید ہوئے 20 ہندوستانی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شہیدوں کی قربانیاں ضائع نہیں جانی چاہئیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا ہے کہ ان بہادر فوجیوں نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے ملک کے لئے اپنی جان نچھاور کردی۔ ہندوستان کے ان جانباز جوانوں نے مادر وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ جوانوں کی اس اعلی ترین قربانی کے لئے ہم ان بہادر فوجیوں اور ان کے خاندان کے احسان مند ہیں۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ آج ہم تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، ہماری سرکار کا فیصلہ اور اس کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم کا جائزہ مستقبل کی نسلیں طے کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک کی قیادت کر رہے ہیں ان کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیر اعظم کے ذریعہ دیئے گئے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو اپنے الفاظ اور اعلانات کے ذریعہ ملک کی سلامتی اور مفادات پر پڑنے والے اثرات کے تعلق سے ہمیشہ بہت محتاط رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اس سال اپریل سے آج تک ہندوستانی سرحد گلوان وادی اور پانگوینگ تسو لیک میں کئی مرتبہ دراندازی کی ہے اور ہندوستان نہ تو اس دباؤ کے آگے جھکے گا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو بیان کے ذریعہ ان کے سازشی رویہ کو تقویت نہیں دینا چاہیے تھا اور یہ یقینی بنانا چاہیے تھا کہ حکومت ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور مل کر ان کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ یہی وقت ہے جب پورے ملک کو ایک ساتھ اس سازش کا جواب دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے کہیں گے کہ گمراہ کن پروپیگنڈا کبھی بھی ڈپلومیسی اور مضبوط قیادت کا متبادل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھ لگو اتحادیوں کے ذریعہ جھوٹی تشہیر سے سچائی کو نہیں دبایا جا سکتا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ وہ حکومت پر زور دیں گے کہ وہ وقت کے چیلنجز کا سامنا کرے، کرنل بی سنتوش بابو اور دیگر فوجی جوان شہاد ت کی قربانی کی کسوٹی پر کھری اترے، جنہوں نے قومی سلامتی اور علاقائی سلامتی کے لئے اپنی زندگیوں کی قربانی دے دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کچھ بھی کم تاریخی عوامی مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ ہو گا۔

next