ممتاز قاضی: لوکل ٹرین کی باحجاب ’موٹر وومن‘، ملازمین کی خدمات میں سرگرم عمل

ممتاز ایشیا کی پہلی خاتون ڈیزل انجن ڈرائیور ہیں اور اپنی سرکردہ خدمات کے لئے صدر جمہوریہ کے ہاتھوں ’ناری شکتی پرسکار‘ سے سرفراز کی جا چکی ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: سینٹرل ریلوے نے گزشتہ ہفتے سے لوکل ٹرینوں کو سرکاری ملازمین اور طبی عملے کے لیے چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم میں دو خواتین موٹر وومنز بھی شامل ہیں، جن میں سے ایک باحجاب مسلم خاتون ممتاز قاضی ہیں۔ ممتاز لازمی کاموں کے لیے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ان کی منزل تک پہنچانے میں سرگرم ہیں اور اپنے روزمرہ کے معمولات بھی بخوبی انجام دے رہی ہیں۔

ممتاز ایشا کی پہلی خاتون ڈیزل انجن ڈرائیور ہیں اور اپنی سرکردہ خدمات کے لئے صدر جمہوریہ کے ہاتھوں ’ناری شکتی پرسکار‘ سے سرفراز کی جا چکی ہیں۔ ممتاز کو یہ اعزاز سابق صدر پرنب مکھرجی نے 2017 میں فراہم کیا تھا۔ واضح رہے کہ ممتاز 20 سال کی عمر سے مختلف اقسام کی ٹرینیں چلا رہی ہیں۔

کورونا وائرس کی وباء کے تیزی سے پھیلنے کے دوران ممتاز قاضی اپنی ساتھی منیشا مہاسکے گھورپڑے کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں اور لوگوں کو بحفاظت اپنی منزل تک پہنچانے کے لیے ڈیوٹی کر رہی ہیں۔

سینٹرل ریلوے کے ترجمان شیواجی ستار نے کہا کہ ان کے ذریعے ٹرین مسافروں کو یہ واضح پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بحفاظت رہیں اور دوسروں کو بھی حفاظت میں رکھنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ اسی پر عمل کرتے ہوئے یہ موٹر ومنز لوگوں کی خدمت میں لگی ہیں اور کامیابی سے ہم کنار ہیں۔

ممبئی کی زندگی کہی جانے والی سینٹرل ریلوے اور ویسٹرن ریلوے نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی اپیل پر لازمی خدمات میں سرگرم سرکاری ملازمین کے لیے ٹرین سروسز شروع کی ہیں۔

ممتاز قاضی: لوکل ٹرین کی باحجاب ’موٹر وومن‘، ملازمین کی خدمات میں سرگرم عمل
HNP

ممتاز قاضی گہرے رنگ میں ملبوس ہوکر 167 سال پرانے چوری بندر یعنی سی ایس ایم ٹی اسٹیشن اور تھانے کے درمیان لوکل ٹرین چلا رہی ہیں اور اپنی کلیگ منیشا کے شانہ بشانہ رہتی ہیں، منیشا سی ایس ایم ٹی اور پنویل کے درمیان خدمات انجام دے رہی ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں ریلویز کی لوکل ٹرینوں سے روزانہ 85 لاکھ مسافر کرتے ہیں ،جوکہ مغربی خطہ میں چرچ گیٹ سے پالگھر تک اور سینٹرل ریلوے کے ذریعے رائے گڑھ ضلع تک چلائی جاتی ہیں اور پہلی بار اتنے عرصے تک لوکل ٹرینوں کو یارڈ میں کھڑا رہنا پڑا ہے۔ ان کو ممبئی کی زندگی بھی کہا جاتا ہے اور لوکل ٹرینوں کی پٹریوں کے دونوں طرف بسے لاکھوں لوگوں کے لیے الارم کا کام بھی کرتی ہیں۔

    Published: 21 Jun 2020, 9:40 PM