دس سال برسراقتدار رہنے کے باوجود گوا میں بی جے پی بیک فُٹ پر کیوں؟... آدتیہ آنند

ضروری سامان کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ اور ریاستی حکومت میں بدعنوانی نے بی جے پی کی پریشانی بڑھا دی ہے، بی جے پی اراکین اسمبلی نے ہی پی ڈبلیو ڈی اور طبی محکمہ میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

بی جے پی، تصویر آئی اے این
بی جے پی، تصویر آئی اے این
user

قومی آوازبیورو

دس سال برسراقتدار رہنے کے باوجود بی جے پی گوا میں بیک فُٹ پر ہے۔ کیتھولک اقلیتی طبقہ کے تین اراکین اسمبلی سمیت چار اراکین اسمبلی نے جس طرح پارٹی چھوڑی ہے، اس سے ایسا ہونا فطری بھی ہے۔ سیاسی ماہرین مانتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ توجہ دے کر پارٹی نے اپنے لیے مصیبت مول لی ہے۔ لیکن پارٹی اب بھی کچھ نہیں سیکھ رہی۔ مرگاؤ کی ہی مثال لیں۔ پارٹی نے اب تک یہاں کسی کو امیدوار نہیں بنایا ہے، پھر بھی ایک شخص نے خود کو پارٹی کا امیدوار اعلان کر دیا ہے۔ یہی نہیں، انھوں نے اپنا انتخابی دفتر بھی کھول دیا اور مرکزی وزیر پیوش گویل کی موجودگی میں تشہیری مہم بھی شروع کر دی۔ بعد میں وہ دوڑ سے ہی ہٹ گئے۔ اس سے حریف رکن اسمبلی اور سابق کانگریس وزیر اعلیٰ دگمبر کامت کی حالت مضبوط ہوئی ہے۔

اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر کے بڑے بیٹے اُتپل نے بغیر نامزدگی ہی راجدھانی پنجی میں انتخابی تشہیر شروع کر دی ہے۔ یہاں حالات عجیب پیدا ہو گئے ہیں۔ یہاں کانگریس سے آئے بابوش مونسیریٹ رکن اسمبلی ہیں۔ انھوں نے ریاستی حکومت پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ پارٹی نے یہاں مونسیریٹ اور اُتپل کے درمیان امیدوار انتخاب کے لیے خفیہ ووٹنگ کرائی ہے۔ ویسے مائیکل لوبو کے وزارتی عہدہ اور پارٹی سے استعفیٰ نے بھی پارٹی کو سنگین بحران میں ڈال دیا ہے۔ لوبو اپنی بیوی کے لیے بھی پارٹی سے ٹکٹ چاہتے تھے لیکن پارٹی نے اس کے لیے منع کر دیا۔ وہ کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں۔ حالانکہ برسراقتدار پارٹی میں یہ کہنے والے کئی لوگ ہیں کہ لوبو صرف نام کے لیے ہی پارٹی میں تھے۔ بہت پہلے ہی وہ پارٹی سے جانے کا ذہن تیار کر چکے تھے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کئی اراکین اسمبلی کی جیت میں ان کا اہم کردار رہا تھا اور ان کے پارٹی بدلنے سے انھیں فرق پڑے گا۔


بی جے پی کی لگاتار مخالفت کرتے رہنے کے باوجود پارٹی میں آنے والے روہن کھونٹے، گوا فارورڈ پارٹی سے بی جے پی میں آنے والے جیشن سلگاؤنکر اور مہاراشٹروادی گومانتک پارٹی (ایم جی پی) سے بی جے پی میں شامل ہونے والے پروین ارلیکر کو لوبو کی بلاواسطہ حمایت تھی اور ان کی ان لوگوں کے انتخابی حلقوں میں اچھا خاصہ اثر رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر منوج کامت کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے لیے اسے ہضم کرنا بہت مشکل ہے، حالانکہ وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لوبو کا جانا امید کے مطابق تھا اور اس کے لیے وہ لوگ تیار تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ پوری طرح پریشان ہو گئے ہیں اور کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔

ضروری اشیاء کی قیمت میں لگاتار اضافہ اور ریاستی حکومت میں بدعنوانی نے بی جے پی کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ بی جے پی اراکین اسمبلی نے ہی پی ڈبلیو ڈی اور محکمہ صحت میں بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔ سیاسی تبصرہ نگار کلیوفیٹو کوتنہو کا کہنا ہے کہ بن رہے شاہراہوں اور پلوں کے ذریعہ ترقی دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ مرکزی حکومت کے فنڈ سے ہوا ہے جب کہ گوا حکومت نے ریونیو کے معاملے میں اپنی حالت اور غریبوں کی زندگی کی سطح کو بہتر کرنے میں اپنا دماغ کبھی نہیں لگایا۔ بی جے پی نظام کو صاف ستھرا کرنے کے نام پر اقتدار میں آئی تھی لیکن اس ایشو پر وہ پوری طرح ناکام رہی ہے۔

(نوجیون ہندی کے لیے آدتیہ آنند کے مضمون کا اردو ترجمہ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔